ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 309

حبسِ دم سوال۔حبسِ دَم کیا ہے؟ جواب۔یہ بھی ہندو جوگیوں کا مسئلہ ہے۔اسلام میں اس کی کوئی اصل موجود نہیں ہے۔۱ ۲۱؍ستمبر۱۹۰۱ء ۲۱؍ستمبر۱۹۰۱ء کی شام کو جبکہ حضرت اقدس امام علیہ الصلوٰۃ والسلام حسبِ معمول مغرب کی نماز سے فارغ ہو کر احباب کے زُمرہ میں تشریف فرما ہوئے تو باتوں ہی باتوں میں کچھ طبّی تحقیقاتوں کا سلسلہ چل پڑا اور ان مغربی تجارب اور تحقیقاتوں کا ذکر ہونے لگا جو عمل جراحی کے متعلق یورپ وامریکہ والوں نے کی ہیں۔اس کے بعد ایک شخص منشی عبد الحق صاحب پٹیالوی نے اپنے ہاں اولاد نرینہ ہونے کے لئے دعا کی درخواست کی۔اس پر حضر ت اقدس امام عالی مقام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک مختصر سی لطیف تقریر فرمائی جس کو ہم اپنے الفاظ اور طرز میں ادا کرتے ہیں اور وہ یہ ہے۔اولاد کی خواہش انسان کو سوچنا چاہیے کہ اسے اولاد کی خواہش کیوں ہو تی ہے؟کیونکہ اس کو محض طبعی خواہش ہی تک محدود نہ کر دینا چاہیے کہ جیسے پیاس لگتی ہے یا بھوک لگتی ہے لیکن جب یہ ایک خاص اندازہ سے گزر جاوے تو ضرور اس کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ(ا لذٰریٰت:۵۷) اب اگر انسان خود مومن اور عبد نہیں بنتا ہے اور اپنی زندگی کے اصل منشا کو پورا نہیں کرتا ہے اور پورا حق عبادت ادا نہیں کرتا بلکہ فسق وفجور میں زندگی بسر کرتا ہے اور گناہ پر گناہ کرتا ہے تو ایسے آدمی کی اولاد کے لئے خواہش کیا نتیجہ رکھے گی؟صرف یہی کہ گناہ کرنے کے لئے وہ اپنا ایک اور خلیفہ چھوڑنا چاہتا ہے۔خود کونسی کمی کی ہے جو اولاد کی خواہش کرتا ہے۔پس جب تک اولاد کی خواہش محض اس غرض کے لئے نہ ہو کہ وہ دین دار اور متّقی ہو اور خدا تعالیٰ کی فرماں بردار ہو کر اس کے دین کی خادم بنے بالکل فضول بلکہ ایک قسم کی معصیت اور گناہ ہے اور باقیاتِ صالحات کی بجائے اس کا نام باقیاتِ سیّئات رکھنا جائز ہو گا۔لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں