ملفوظات (جلد 2) — Page 308
سے چاہتا ہے کہ اس سے تعلق پیدا کرے اور یہی ناممکن ہے۔پس میری نصیحت یہی ہے کہ ان خیالات سے بالکل الگ رہو اور وہ طریق اختیار کرو جو خدا تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور اپنے طرزِ عمل سے ثابت کر دکھایا کہ اسی پر چل کر انسان دنیا اور آخرت میں فلاح اور فوز حاصل کر سکتا ہے اور صحابہؓ کو جس کی تعلیم دی۔پھر وقتاً فوقتاً خدا کے بر گزیدوں نے سنّت جاریہ کی طرح اپنے اعمال سے ثابت کیا اور آج بھی خد انے اسی کو پسند کیا۔اگر خدا تعالیٰ کا اصل منشا یہی ہوتا تو ضرور تھا کہ آج بھی جب اس نے ایک سلسلہ گمشدہ صداقتوں اورحقائق کے زندہ کرنے کے لئے قائم کیا یہی تعلیم دیتا اور میری تعلیم کا منتہا یہی ہوتا مگر تم دیکھتے ہو کہ خدا نے ایسی تعلیم نہیں دی ہے بلکہ وہ تو قلب سلیم چاہتا ہے۔وہ مـحسنوں اور متّقیوں کو پیار کرتا ہے۔ان کا ولی ہوتا ہے۔کیا سارے قرآن میں ایک جگہ بھی لکھاہوا ہے کہ وہ ان کو پیار کرتا ہے کہ جن کے قلب جاری ہوں؟ یقیناً سمجھو کہ یہ محض خیالی باتیں اور کھیلیں ہیں جن کا اصلاحِ نفس اور روحانی امور سے کچھ بھی تعلق نہیں ہے بلکہ ایسے کھیل خدا سے بُعد کا موجب ہو جاتے ہیں اور انسان کے عملی حصہ میں مضر ثابت ہوتے ہیں اس لئے تقویٰ اختیار کرو۔سنّت نبوی کی عزّت کرو اور اس پر قائم ہوکر دکھاؤ جو قرآن شریف کی تعلیم کا اصل فخر یہی ہے۔صوفیاء کا معاملہ سوال۔پھر صوفیوں کو کیا غلطی لگی ؟ جواب۔ان کو حوالہ بخدا کرو۔معلوم نہیں انہوں نے کیا سمجھااور کہاں سے سمجھا تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ ( البقرۃ :۱۳۵) بعض وقت لوگوں کو دھوکا لگتا ہے کہ وہ ابتدائی حالت کو انتہائی سمجھ لیتے ہیں۔کیا معلوم ہے (کہ) انہوںنے ابتدا میں یہ کہا ہو پھر آخر میں چھوڑ دیا ہو یا کسی اور ہی نے ان کی باتوں میں التباس کر دیا ہو اور اپنے خیالات ملا دیئے ہوں۔اسی طرح پرتو توریت و انجیل میں تحریف ہو گئی۔گزشتہ مشائخ کا اس میں نام بھی نہیں لینا چاہیے۔ا ن کا تو ذکر خیر چاہیے۔انسان کو لازم ہے کہ جس غلطی پر خدا اسے مطلع کردے خود اس میں نہ پڑے۔خدا نے یہی فرمایا ہے کہ شرک نہ کرو اور تمام عقل اور طاقت کے ساتھ خدا کے ہو جاؤ۔اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اللّٰہُ لَہٗ۔