ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 310 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 310

صالح اور خدا ترس اور خادم دین اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو اس کا یہ کہنا بھی نرا ایک دعویٰ ہی دعویٰ ہوگا جب تک کہ خود وہ اپنی حالت میں ایک اصلاح نہ کرے۔اگر خود فسق و فجور کی زندگی بسر کرتا ہے اور منہ سے کہتا ہے کہ میںصالح اور متقی اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو وہ اپنے اس دعویٰ میں کذاب ہے۔صالح اور متقی اولاد کی خواہش سے پہلے ضروری ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کرے اور اپنی زندگی کو متقیانہ زندگی بنا دے تب اس کی ایسی خواہش ایک نتیجہ خیز خواہش ہو گی اور ایسی اولاد حقیقت میں اس قابل ہو گی کہ اس کو باقیات صالحات کا مصداق کہیں۔لیکن اگر یہ خواہش صرف اس لئے ہو کہ ہمارا نام باقی رہے اور وہ ہمارے املاک و اسباب کی وارث ہو یا وہ بڑی نامور اور مشہور آدمی ہو۔اس قسم کی خواہش میرے نزدیک شرک ہے۔نیکی کرنے کا مقصد یاد رکھو کسی نیکی کو بھی اس لئے نہیں کرنا چاہیے کہ اس نیکی کے کرنے پر ثواب یا اجر ملے گا کیونکہ اگر محض اس خیال پر نیکی کی جاوے تو وہ اِبْتِغَاءً لِمَرْضَاتِ اللّٰہِ نہیں ہو سکتی بلکہ اس ثواب کی خاطر ہو گی اور اس سے اندیشہ ہو سکتا ہے کہ کسی وقت وہ اسے چھوڑ بیٹھے مثلاً اگر کوئی شخص ہر روز ہم سے ملنے کو آوے اور ہم اس کو ایک روپیہ دے دیاکریںتو وہ بجائے خود یہی سمجھے گا کہ میرا جانا صرف روپیہ کے لئے ہے۔جس دن سے روپیہ نہ ملے اسی دن سے آنا چھوڑ دے گا۔غرض یہ ایک قسم کا باریک شرک ہے اس سے بچنا چاہیے۔نیکی کو محض اس لئے کرنا چاہیے کہ خد اتعالیٰ خوش ہو اور اس کی رضا حاصل ہو اور اس کے حکم کی تعمیل ہو۔قطع نظر اس کے کہ اس پر کوئی ثواب ہو یا نہ ہو۔۱ ایمان تب ہی کامل ہوتا ہے جبکہ یہ وسوسہ اور وہم درمیان سے اٹھ جاوے۔اگرچہ یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ ( التوبۃ : ۱۲۰ ) مگر نیکی کرنے والے کو اجر مد نظر نہیں رکھنا چاہیے۔دیکھو! اگر کوئی مہمان ۱ نوٹ۔حضرت حجۃ اللہ نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے جس کام کے کرنے کا حکم دیا ہے اگر مجھے یہ بھی بتایا جاوے اور یقین کرایا جاوے کہ اس کام کے کرنے پر سخت سے سخت عذاب دیا جاوے گا تب بھی میں اپنی روح میں کوئی لغزش نہیں پاتا کہ وہ اس کام کو چھوڑ دے کیونکہ محض عذاب یا ثواب میرے کام کی غرض نہیں ہے مجھے تو خدا تعالیٰ نے طبعی طور پر ایک جوشِ فطرت عطا کیا ہے جو اس کے احکام کی تعمیل کی طرف کشاں کشاں لیے جاتا ہے۔(ایڈیٹر)