ملفوظات (جلد 2) — Page 306
نے اُسے کہا کہ تُومجھے دکھا۔جب مَیں نے پھر ہاتھ میں لے کر دیکھا تو اس پر لکھا ہواتھا اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَـخَلَقْتُ اٰدَمَ۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا خلیفہ جو ہوتا ہے ردائے الٰہی کے نیچے ہوتا ہے۔اسی لیے آدم ؑ کے لیے فرمایا کہ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِيْ (ا لـحجر: ۳۰) اسی طرح پر غلطیاں پیداہوتی گئیں۔اُصول کو نہ سمجھا۔کچھ کاکچھ بگاڑ کر بنالیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ شرک اور بُت پرستی نے اس کی جگہ لے لی۔ہماری تصویر کی اصل غرض وہی تھی جو ہم نے بیان کردی کہ لنڈن کے لوگوں کو اطلاع ہو اور اس طرح پر ایک اشتہار ہوجاوے۔۱ قلب جاری ہونے کا مسئلہ غرض تصوّرِ شیخ کا مسئلہ ہندوئوں کی ایجاد اورہندوئوں ہی سے لیاگیا ہے۔چنانچہ قلب جاری ہونے کا مسئلہ بھی ہندوئوں ہی سے لیا گیا ہے۔قرآن میں اس کا ذکر نہیں۔اگر خدا تعالیٰ کی اصل غرض انسان کی پیدائش سے یہ ہوتی توپھر اتنی بڑی تعلیم کی کیا ضرورت تھی۔صرف اجرائے قلب کا مسئلہ بتاکر اس کے طریقے بتا دیئے جاتے۔مجھے ایک شخص نے معتبر روایت کی بنا پر بتایا کہ ہندو کا قلب رام رام پر جاری تھا۔ایک مسلمان اس کے پاس گیا اس کا قلب بھی رام رام پر جاری ہوگیا۔یہ دھوکا نہیں کھاناچاہیے۔رام خدا کا نام نہیں ہے۔دیانند نے بھی اس پر گواہی دی ہے کہ یہ خدا کانام نہیں ہے۔قلب جاری ہونے کا دراصل ایک کھیل ہے جو سادہ لوح جُہلاکو اپنے دام میں پھنسانے کے لئے کیا جاتاہے۔اگر لوٹالوٹا کہا جاوے تو اس پر بھی قلب جاری ہوسکتا ہے۔اگر اللہ کے ساتھ ہو تو پھر وہی بولتا ہے۔یہ تعلیم قرآن نے نہیں دی ہے بلکہ اس سے بہتر تعلیم دی ہے اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ ( الشعرآء:۹۰) خدا یہ چاہتا ہے کہ ساراوجودہی قلب ہوجاوے ورنہ اگر وجود سے خدا کا ذکر جاری نہیںہوتا تو ایساقلب قلب نہیں بلکہ کلب ہے۔خدا یہی چاہتا ہے کہ خدا میں فنا ہوجائو اور اس کے حدود وشرائع کی عظمت کرو۔قرآن فنائِ نظری کی تعلیم دیتا ہے۔میں نے آزما کر دیکھا ہے کہ قلب جاری ہونے کی صرف ایک مشق ہے جس کا انحصار