ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 307

صلاح وتقویٰ پر نہیں ہے۔ایک شخص منٹگمری یا ملتان کے ضلع کا مجھے چیف کورٹ میں ملا کرتا تھا اسے اجرائے قلب کی خوب مشق تھی۔پس میرے نزدیک یہ کوئی قابلِ وقعت بات نہیں اور خدا تعالیٰ نے اس کو کوئی عزّت اور وقعت نہیں دی۔خدا تعالیٰ کا منشا اور قرآن شریف کی تعلیم کا مقصد صرف یہ تھا کہ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا ( الشّمس :۱۰) کپڑا جب تک سارا نہ دھویا جاوے وہ پاک نہیں ہو سکتا۔اسی طرح پر انسان کے سارے جوارح اس قابل ہیں کہ وہ دھوئے جاویں۔کسی ایک کے دھونے سے کچھ نہیں ہوتا۔اس کے سوا یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ خدا کا سنوارا ہوا بگڑتا نہیں مگر انسان کی بناوٹ بگڑ جاتی ہے۔ہم گواہی دیتے ہیں اور اپنے تجربہ کی بنیاد پر گواہی دیتے ہیں کہ جب تک انسان اپنے اندرخدا تعالیٰ کی مرضی اور سنّت نبوی کے موافق تبدیلی نہیں کرتا اور پاکیزگی کی راہ اختیار نہیں کرتا تو خواہ اس کے قلب سے ہی آواز آتی ہو وہ زہر جو انسان کی روحانیت کو ہلاک کر دیتی ہے دور نہیں ہو سکتی۔روحانیت کی نشو و نما اور زندگی کے لئے صرف ایک ہی ذریعہ خدا تعالیٰ نے رکھا ہے اور وہ اتباع رسول ہے۔جو لوگ قلب جاری ہو نے کے شعبدے لئے پھرتے ہیں انہوں نے سنّت نبوی کی سخت توہین کی ہے۔کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی انسان دنیا میں گزرا ہے؟پھر غار حرا میں بیٹھ کر وہ قلب جاری کرنے کی مشق کیا کرتے تھے یا فنا کا طریق آپ نے اختیا ر کیا ہوا تھا؟ پھر آپ کی ساری زندگی میں کہیں اس امر کی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ آپ نے صحابہؓ کو یہ تعلیم دی ہو کہ تم قلب جاری کرنے کی مشق کرو اور کوئی ان قلب جاری والوں میں سے پتہ نہیں دیتا اور کبھی نہیں کہتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی قلب جاری تھا۔یہ تمام طریق جن کا قرآن شریف میں کوئی ذکر نہیں۔انسانی اختراع اور خیالات ہیں جن کا نتیجہ کبھی کچھ نہیں ہوا۔قرآن شریف اگر کچھ بتاتا ہے تو یہ کہ خدا سے یوں محبت کرو۔اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ (البقرۃ:۱۶۶) کے مصداق بنو اور فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (اٰل عـمران :۳۲) پر عمل کرو اور ایسی فنا اَتَم تم پر آجاوے کہ تَبَتَّلْ اِلَيْهِ تَبْتِيْلًا (المزمل:۹) کے رنگ سے تم رنگین ہو جاؤ اور خدا تعالیٰ کو سب چیزوں پر مقد م کر لو۔یہ امور ہیں جن کے حصول کی ضرورت ہے۔نادان انسان اپنی عقل اور خیال کے پیمانہ سے خد اکو ناپنا چاہتا ہے اور اپنی اختراع