ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 305 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 305

افترا ہے۔جو مسلمان ہیں اُن کو اس پرغصہ نہیں آنا چاہیے تھا۔جو کچھ خدا اور رسول نے فرمایا ہے وہ حق ہے۔اگر مشائخ کا قول خدا او ر رسول کے فرمودہ کے موافق نہیں تو ع کالائے بد بریش خاوند تصورِ شیخ کی بابت پوچھو تو اس کا کوئی پتہ نہیں۔اصل یہ ہے کہ صالحین اور فانین فی اللہ کی محبت ایک عمدہ شے ہے لیکن حفظِ مراتب ضروری ہے۔ع گر حفظِ مراتب نہ کُنی زِندیقی پس خدا کو خدا کی جگہ، رسول کورسول کی جگہ سمجھو اور خدا کے کلام کو دستور العمل ٹھہرا لو۔اس سے زیادہ چونکہ قرآن شریف میں اور کچھ نہیں کہ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ (التوبۃ:۱۱۹) پس صادقوں اور فانی فی اللہ کی صحبت تو ضروری ہے اور یہ کہیں نہ کہا گیا کہ تم اُسے ہی سب کچھ سمجھو اور یا قرآن شریف میں یہ حکم ہے اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ( اٰل عـمران:۳۲) اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ مجھے خدا سمجھ لو بلکہ یہ فرمایا کہ اگر خدا کے محبوب بننا چاہتے ہو تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو۔اتباع کا حکم تو دیا ہے مگر تصورِ شیخ کا حکم قرآن میں پایا نہیں جاتا۔تصوّرِ شیخ سوال۔جوتصوّرِ شیخ کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم شیخ کو خدا نہیں سمجھتے۔جواب۔مانا کہ وہ ایساکہتے ہیں مگر بت پرستی تو شروع ہی تصورسے ہوتی ہے۔بُت پرست بھی بڑھتے بڑھتے ہی اس درجہ تک پہنچاہے۔پہلے تصور ہی ہوگا۔پھر یہ سمجھ لیا کہ تصورقائم رکھنے کے لئے بہتر ہے تصویر ہی بنالیں اور پھر اس کوترقی دیتے دیتے پتھر اوردھاتوں کے بُت بنانے شروع کردیئے اور اُن کو تصویرکاقائم مقام بنالیا۔آخر یہاں تک ترقی کی کہ اُن کی روحانیت کو اوروسیع کرکے ان کو خدا ہی مان لیا۔اب نِرے پتھر ہی رکھ لیتے ہیں اور اقرارکرتے کہ منتر کے ساتھ اُن کو درست کرلیتے ہیں اور پرمیشر کا حلُول ان پتھروں میں ہوجاتا ہے۔اس منتر کا نام انہوں نے آواہن رکھا ہوا ہے۔مَیں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے۔مَیں نے ایک شخص کو دیا کہ اسے پڑھو تو اس نے کہاکہ اس پر آواہن لکھا ہواہے۔مجھے اس سے کراہت آئی۔مَیں