ملفوظات (جلد 2) — Page 288
جن سے جاہل یا تو اُن کو کفر کی طرف منسوب کرتا ہے یا اُن کے اقوال کو فرقہ ضالہ وحدۃ وجود کے لئے حجت پکڑتا ہے۔جیسے سُبْـحَانِیْ مَااَعْظَمُ شَاْنِیْ اور اَللّٰہُ فِیْ جُبَّتِیْ۔یہ اُن کی غلط فہمی ہے جو وہ ان کے اقوال سے حجت پکڑتے ہیں۔اول تو یہ صحیح طور پر معلوم نہیں کہ ان کے منہ سے ایسے الفاظ نکلے بھی ہیں یا نہیں لیکن اگر ہم مان بھی لیں کہ واقعی انہوں نے ایسے الفاظ بیان فرمائے ہیں تو ایسے کلمات کا چشمہ عشق اور محبت ہے مثلاً ایک عاشق جوشِ محبت اور محویت عشق میں یہ کہہ سکتا ہےکہ ؎ من تو شُدم تومن شُدی من تن شُدم تو جان شُدی تاکس نگوید بعد ازیں من دِیگرم تو دِیگری ۱ یہ محویت اورفنا اس قسم اور رنگ کی ہے جیسے ماں کو اپنے بچہ کے ساتھ محبت کے رنگ میں ہوتی ہے۔یہاں تک کہ اگر تھوڑی دیر تک بچہ ماں کو نہ ملے تو اس کا دل اندرہی اندربیٹھاجاتا ہے اور ایک اضطراب اور گھبراہٹ محسوس کرتی ہے اورجوں جوں اس میں توقّف اور دیر ہوتی جاتی ہے اسی قدر اُس کا اضطراب بڑھتا جاتا ہے اور اسے بے ہوش کردیتا ہے۔اب یہ اُس کی فنا اُس کے وجود سے بڑھ کر ہے مگر وجودی نے فنا میں ایک وجود قائم کیا ہے۔غرض ان بزرگوں کے منہ سے جو الفاظ اس قسم کے نکلے ہیں جن کو وجودیوں نے اپنی تائید میں پیش کیا ہے۔وہ اسی قسم کی محویت اور عشق و محبت کے غلبۂ تامہ کا نتیجہ ہیں جس کو ان لوگوں نے اپنی کمی فہم کے باعث کچھ کا کچھ بنالیا ہے۔اُن کو یہ معلوم نہیں ہے کہ جب عشق و محبت جوش مارتے ہیں تو اس کے عجیب عجیب اثر ظاہر ہوتے ہیں۔یہاں تک کہ یہ اپنے آپ سے بالکل الگ ہوتا ہے۔استیلائِ محبت میں اپنا وجود دکھائی دیتا ہی نہیں اور یہی سمجھ میں آتا ہے کہ مَیں کچھ بھی نہیں۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک لوہے کے ٹکڑہ کو آگ میں ڈال دیا جاوے۔یہاں تک کہ وہ سرخ انگارے کی طرح ہوجاوے۔اس حالت میں ایک دیکھنے والا لوہے کا ٹکڑا قرارنہیں دے گا بلکہ وہ اُس کو آگ ہی کا ایک انگارہ سمجھے گا اور وہ بظاہر ہوتا بھی آگ ہی ہے۔اس سے جلا بھی سکتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ لوہا ہی ہوتا ہے۔اسی طرح پر آتشِ محبت اپنے عجائبات دکھاتی ہے۔نادان ان