ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 287

اپنا زہر بہت پھیلایا ہے۔غور کر کے اس کے نتائج پر نظر کرو بجز اباحت کے اور کچھ معلوم نہیں دیتا۔یہ لوگ صوم و صلوٰۃ کے پابند نہیں اور ہو بھی نہیں سکتے۔کیونکہ خدا سے ڈرنا جس پر نجات کا مدار اور اعمال کا انحصار ہے وہ ان میں نہیں ہے۔بعض بالکل دہریوں کے رنگ میں ہیں۔غرض میں سچ کہتا ہوں کہ یہ فتنہ بھی منجملہ ان فتنوں کے جو اس وقت پھیلے ہوئے ہیں ایک سخت فتنہ ہے جس نے فسق وفجور کا دریا چلا دیا ہے اور اباحت اور دہریت کے دروازوں کو کھول دیا ہے۔اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس وقت زندہ ہوتے تو وہ ان کو دیکھ کر حیران ہوتے کہ یہ اسلام کہاں سے آیا۔انسان کو کسی حالت میں مناسب نہیں ہے کہ وہ انسانیت کی حدود کو توڑ کر آگے نکل جاوے۔کیا سچ کہا ہے ؎ بزہد و ورع کوش و صدق و صفا و لیکن میفزائے بر مصطفیٰ غرض یہ فرقہ دِق کی طرح ہے۔ایک شخص الٰہ آباد میں تھا۔اس نے مجھ سے خط وکتابت کی۔ایک دو مرتبہ کے خطوط کی آمد ورفت کے بعد وہ گالیوں اور بد زبانیوں پر اتر آیا۔ان لوگوںمیں تزکیہ نفس تو بڑی بات ہے عام اخلاقی حالت بھی اچھی نہیںہوتی۔اصل یہ ہے کہ اخلاق فاضلہ اور تزکیہ نفس کا مدار ہے تقویٰ اور خدا کا خوف جو بد قسمتی سے ان لوگوں میں نہیں ہوتا کیونکہ وہ خود خد ا تو بنے ہوئے ہوتے ہیں۔پس جب وہ انسانیت چھوڑ کر خدا بن گئے اور یہ ایک ثابت شدہ بات ہے کہ وہ خدا تو بن سکتے ہی نہیں۔پھر باقی یہی رہا کہ انسانیت چھوڑ کر شیطان بن گئے۔اس لئے وہ بہت جلد برا فروختہ ہو جاتے ہیں اور جہاں تک ان لوگوں کے حالات کی تحقیق کرو گے ان میں اسلام کی پابندی ہرگز نہ نکلے گی۔میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ ان میں صوم و صلوٰۃ کی پابندی نہیں ہوتی اس لئے کہ خشیت الٰہی نہیں ہوتی اور ہیبت اٹھ جاتی ہے۔آخر کار دہریوں کے ساتھ نشست وبرخاست شروع کرتے ہیں اور حدود اللہ کو توڑ کر بے قید ہو جاتے ہیں۔غرض یہ بڑا ہی خطر ناک زہر ہے۔اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت بایزید بسطامی یا خواجہ جنید بغدادی یا سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کے کلمات میں ایسے الفاظ پائے جاتے ہیں