ملفوظات (جلد 2) — Page 289
عجائبات کو دیکھ کر بجائے اس کے کہ ان پر غور کرے اور ان سے کوئی مفید نتیجہ حاصل کرے ایک خیالی اثر اپنے دل پر قائم کرلیتا ہے اور اسی لیے یہ مشکلات ہیں کہ ہر شخص جس مذہب میں اپنی عمر کا ایک حصہ گزارتا ہے وہ اس کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔مگر یہ بڑی بھاری غلطی ہے۔جہاں اور غلطیوں اورکمزوریوں کا مؤاخذہ ہوگا وہاں اس کا بھی مؤاخذہ ضرور ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ نے صاف طور پر فرما دیا ہے لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ( بنی اسـراءیل :۳۷) پھر مَنَم خداوالا کیونکرکہہ سکتا ہے کہ مجھے واقعی یقین آگیا ہے۔وہ اپنے اند رکون سے خواصِ ربّانی اور صفاتِ ربّانی محسوس کرتا ہے جو یہ فضول دعویٰ کربیٹھتا ہے۔جب قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتا اور حوائجِ انسانی کی زنجیروں میں پابند اور جکڑا ہوا ہے۔پھراُسے کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ مَنَم خدا کہے اور کہے کہ ہاں مجھے اپنے خدا ہونے پر یقین ہوگیا ہے۔اگر وہ ایسا کہے تو دُوسرا اُس کو دیکھنے والا کہہ سکتا ہے کہ تو کیوں فضول اتنی شیخی مارتا ہے۔اپنی عاجزی اور فرومائیگی کودیکھو۔قرآن شریف میں خالق اور مخلوق میں صریح امتیاز رکھاہوا ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سے قرآن شریف کو شروع کیا گیا ہے اور پھر مَرنے کے بعد بھی ایک مرحلہ رکھا ہوا ہے۔انسان جب خود اپنے حالات اور صفات کو ہی جان نہیں سکتا اور سمجھ نہیں سکتا پھر یہ خدا کیسے بن سکتا ہے۔اس کے علم کامحدود اور ناقص ہونا ہی اس کے مخلوق اور بندہ ہونے کی دلیل ہے۔اگر یہ غور کرے۔مسئلہ وحدتِ وجود غرض یہ بڑا گندہے اور لوگ جو اس مسئلہ وحدتِ وجود کومانتے ہیں بڑے گُستاخ اور متکبر ہوتے ہیں۔اپنی غلطیوں کو نہیں چھوڑتے اور اور غلطیوں کو چھوڑیں کیوں کر جبکہ وہ اپنے آپ کو معاذ اللہ، خدا سمجھتے ہیں۔اگر خدا اور بندہ میں فرق کریں تو ان کو اپنی غلطیوں کی حقیقت پر اطلاع ملے۔وہ اپنے طفلانہ خیالات پر خوش ہیں اس لیے قرآن شریف کے حقائق سے ان کو کوئی خبرنہیں ہوسکتی۔یہ بہت بڑی خرابی ہے اور مَیں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ خرابی کب سے پیدا ہوئی ہے۔میرے نزدیک سارے گدی نشینوں میں کوئی کم ہوگا جس کا یہ مذہب نہ ہو او رانہوں نے بزرگانِ دین کے اُن اقوال کو جو انہوں نے استیلائے محبت اور جوش عشق میں فرمائے تھے فلسفہ بنادیا۔اصل میں فنائے نظری اور وجودی کے مذہب میں فرق یہ ہے کہ اوّل الذکر فلسفہ نہیں رکھتا وہ استیلائے عشق رکھتا ہے