ملفوظات (جلد 2) — Page 286
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ( البقرۃ :۱۶۶) اور فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ ( البقرۃ :۲۰۱) پھر کیا دنیا میں کبھی یہ بھی ہوا ہے کہ بیٹا باپ کی محبت میں فنا ہوکر خود باپ بن جائے۔باپ کی محبت میں فناتو ہوسکتا ہے مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ باپ ہی ہو جاوے۔یہ یادرکھنے کے قابل بات ہے کہ فنائِ نظری ایک ایسی شَے ہے جو محبت سے ضرور پیدا ہوتی ہے لیکن ایسی فنا جو درحقیقت بہانہ فنا کا ہو اورایک جدید وجود کے پیداکرنے کا باعث بنے کہ مَیں ہی ہوں یہ ٹھیک نہیں ہے۔جن لوگوں میں تقویٰ اور ادب ہے اور جنہوں نے لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ( بنی اسـراءیل :۳۷) پرقدم مارا ہے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ وجودی نے جو قدم مارا ہے وہ حدِّ ادب سے بڑھ کر ہے۔بیسیوں کتابیں ان لوگوں نے لکھی ہیں مگرہم پوچھتے ہیں کہ کیا کوئی وجودی اس بات کا جواب دے سکتا ہے کہ واقعی وجودی میں خدا ہے یا تصور ہے؟ اگر خدا ہی ہے تو کیا یہ ضعف اور یہ کمزوریاں جو آئے دن عایدِحال رہتی ہیں یہ خدا تعالیٰ کی صِفات ہیں؟ ذرا بچہ یا بیوی بیمار ہوجاوے توکچھ نہیں بنتا اور سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کِیا جاوے؟ مگر خدا تعالیٰ چاہے تو شفا دے سکتا ہے حالانکہ وجودی کے اختیار میں یہ امر نہیں ہے۔بعض وقت مالی ضُعف اور افلاس ستاتا ہے۔بعض وقت گناہ اورفسق وفجوربے ذوقی اور بےشوقی کاموجب ہوجاتا ہے تو کیا خدا تعالیٰ کے شاملِ حال بھی یہ اُمور ہوتے ہیں؟ اگر خدا ہے تو پھر اس کے سارے کام کُنْ فَیَکُوْنُ سے ہونے چاہئیں حالانکہ یہ قدم قدم پر عاجز اور محتاج ٹھوکریں کھاتا ہے افسوس وجودی کی حالت پر کہ خدا بھی بنا پھر اس سے کچھ نہ ہوا۔پھر عجب تر یہ ہے کہ یہ خدائی اس کو دوزخ سے نہیں بچاسکتی کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ ( الزلزال :۹) پس جب کوئی گناہ کیا تو اس کا خمیازہ بھگتنے کے لئے جہنم میں جانا پڑا اور ساری خدائی باطل ہوگئی۔وجودی بھی اس بات کے قائل ہیں کہ فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّةِ وَ فَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ ( الشوریٰ :۸) جب کہ وہاں بھی انسانیت کے تجسّم بنے رہے تو پھر ایسی فضول بات کی حاجت ہی کیا ہے جس کا کوئی نتیجہ اور اثر ظاہر نہ ہوا۔غرض یہ لوگ بڑے بے باک اور دلیر ہوتے ہیں اور چونکہ اس فرقہ کا نتیجہ اباحت اور بے قیدی ہے اس لئے یہ فرقہ بڑھتا جاتا ہے۔لاہور، جالندھر اور ہوشیار پور اضلاع میں اس فرقہ نے