ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 285

ہوں پھر بھی تقویٰ سے عظمت ملتی ہے۔تقویٰ ایک ایسی دولت ہے کہ اس کے حاصل ہونے سے انسان خدا تعالیٰ کی محبت میں فنا ہوکرنقشِ وجودمٹاسکتا ہے۔کمال تقویٰ کا یہی ہے کہ اس کا اپنا وجود ہی نہ رہے اور صیقل زدم آں قدر کہ آئینہ نماند کا مصداق ہوجاوے۔اصل میں یہی توحید اور یہی وحدتِ وجود تھی جس میں لوگوں نے غلطیاں کھاکر کچھ کا کچھ بنا لیا ہے۔یہ کیا دین اور تقویٰ ہے کہ ایک ضعیف انسان اور بے چارہ بندہ ہوکر خدائی کا دعویٰ کرے۔اس سے بڑھ کر کیا گستاخی اور شوخی ہوسکتی ہے کہ انسان خدا بنے اور خدا کے بھید اور اسرار کا جاننے کا مدّعی ٹھہرے۔وجودی فرقہ وجودیوں کی مثال ایسی ہے جیسے ڈاکٹر انسان کی تشریح کرتاہے اور اس کے دل و گُردہ وجگر کے بھید معلوم کرتا ہے۔اسی طرح پروجودی نے خدا کا بھید معلوم کرلینے کا دعویٰ کیا ہے حالانکہ یہ نِری غلطی اورگستاخی ہے۔یہ لوگ اگر خدا تعالیٰ کی عظمت وجبروت سے ڈرنے والے ہوتے اور ان کے دل میں خدا کاخوف ہوتاتو ان کے لیے صرف لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ (الانعام:۱۰۴) ہی کافی تھا اور لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ( الشورٰی :۱۲) ہی بس تھا مگر جو شخص خدا کے وجود میں آگے سے آگے ہی چلا جاوے توحیا اس کا نام نہیں ہے۔وجودی مذہب والوں نے کیا بنایا؟۱ انہوں نے کیا معلوم کیا جو ہم کو معلوم نہ تھا؟ بنی نوع کو انہوں نے کیا فائدہ پہنچایا؟ ان ساری باتوں کا جواب نفی میں دینا پڑے گا۔اگر کوئی ضدّ اور ہٹ سے کام نہ لے تو ذرا بتائے تو سہی کہ خدا تو محبت اور اطاعت کی راہ بتاتا ہے چنانچہ خود قرآن شریف میں اس نے فرمایا ہے ۱ نوٹ۔بناتے توکیا خاک اُلٹے خرابی میں پڑگئے۔کیااچھا ہوتاکہ اگر یہ وجودی بجائے وحدتِ وجود کے کثرتِ وجود کا عقیدہ رکھتے اور خدابننے کی کوشش نہ کرتے بلکہ مسیح بننے کی کوشش کرتے تاکہ یہ شرکِ عظیم جو دنیا میں پھیل رہا ہے کچھ تو مٹتا اور ۴۰ کروڑ لوگوں میں سے جو رات دن رَبُّنَا الْمَسِیْحُ پکارتے ہیں کسی کی تو آنکھ کھلتی کہ دنیا میں کتنے مسیح ہوچکے اورہیں اور ہوں گے اورقرآن کریم نے اس شِرک اعظم کے توڑنے کے لئے مسیح ابن مریم بننے کا دروازہ کھول دیا ہے چنانچہ سورۃ تحریم کی آخر کی آیات بوضاحت تمام کہہ رہی ہیں کہ پہلے زمانہ میں ایک ہی مسیح تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین میں سارے مومن مسیح ابن مریم ہوسکتے ہیں۔