ملفوظات (جلد 2) — Page 275
اعتراض کرنے کی جرأ ت کر تا ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دوسر ے افعال پر نظر نہیں کرتا۔ایسے امور پیش آتے ہیں جو دوسرے علم نہ رکھنے کی وجہ سے ان پر اعتراض کر بیٹھتے ہیں۔اعتراض سے پہلے انسان کو چاہیے کہ حُسنِ ظن سے کام لے اور چند روز تک صبر سے دیکھے پھر خودبخود حقیقت کھل جاتی ہے۔کچھ عرصہ کا ذکر ہے کہ ایک عورت مہمان آئی اور ان دنوں میں کچھ ایسا اتفاق ہوا کہ چند بیبیوں سے نماز ساقط ہو گئی تھی اس نے کہا کہ یہاںکیا آنا ہے کوئی نماز ہی نہیں پڑھتا حالانکہ وہ معذور تھیں اور عند اللہ ان پر کوئی مواخذہ نہ تھا مگر اس نے بغیر دریافت کئے اور سوچے ایسا لکھ دیا۔حضرت امّا ں جان کاعظیم نمونہ تزکیہ دل میں ہوتا ہے۔بغیر اس کے کچھ نہیں بنتا حالانکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے گھر میں اس قدر التزام نماز کا ہے کہ جب پہلا بشیر پیداہوا تھا۔اس کی شکل مبارک سے بہت ملتی تھی۔وہ بیمار ہوا اورشدت سے اس کو بخار چڑھاہوا تھا یہاں تک کہ اس کی حالت نازک ہوگئی۔اس وقت نماز کا وقت ہو گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نماز پڑھ لوں۔ابھی نماز ہی پڑھتے تھے کہ وہ بچہ فوت ہوگیا۔نماز سے فارغ ہوکر مجھ سے پوچھا کہ کیا حال ہے؟ میں نے کہا کہ اس کاتو انتقال ہوگیا۔اس وقت میں نے دیکھا کہ انہوں نے بڑی شرح صدر کے ساتھ کہا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ(البقرۃ: ۱۵۷)۔اسی وقت میرے دل میں ڈالا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو نہیں اٹھائے گا جب تک اسی بچہ کابدلہ نہ دے لے۔چنانچہ اس کے فوت ہونے کے قریباً چالیس دن بعد محمود پیداہوا اوراس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ بچّے پیداہوئے۔نماز کا مغز دُعاہے غرض ظنون فاسدہ والا انسان ناقص الخلقت ہوتا ہے چونکہ اس کے پاس صرف رسمی امور ہوتے ہیں اس لیے نہ ا س کادین درست ہوتا ہے نہ دنیا۔ایسے لوگ نمازیں پڑھتے ہیں مگر نماز کے مطالب سے ناآشنا ہوتے ہیں اور ہرگز نہیں سمجھتے کہ کیا کر رہے ہیں نماز میں تو ٹھونگے مارتے ہیں لیکن نماز کے بعد دعامیںگھنٹہ گھنٹہ گزار دیتے ہیں۔تعجب کی بات ہے کہ نماز جواصل دعا کے لیے ہے اور جس کا مغز ہی دعا ہے اس میں وہ کوئی دعا نہیں