ملفوظات (جلد 2) — Page 274
نام ہے۔اور جو امور وصایا آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم یا اﷲ تعالیٰ کے احکام کے خلاف نہ ہوں اور نہ ان میں ریا کاری مدّ نظر ہو بلکہ بطور اظہارشکر و تحدیث بالنعمۃ ہوں تو اس کے لئے کوئی حرج نہیں ہے۔ہمارے علماء تو یہاں تک بعض اوقات مبالغہ کرتے ہیں کہ میں نے سنا ہے ایک مولوی نے ریل کی سواری کے خلاف فتویٰ دیا اور ڈاکخانہ میں خط ڈالنا بھی وہ گناہ بتا تاتھا۔اب یہاں تک جن لوگوں کی حالت پہنچ جاوے ان کے پاگل یا نیم پاگل ہونے میں کیا شک باقی رہا؟ یہ حماقت ہے۔دیکھنا یہ چاہیے کہ میرا فلاں فعل اﷲ تعالیٰ کے فرمودہ کے موافق ہے یا خلاف ہے اور جو کچھ میں کر رہا ہوں یہ کوئی بدعت تو نہیں اور اس سے شرک تو لازم نہیں آتا اگر ان امور میں سے کوئی بات نہ ہو اور فساد ایمان پیدا نہ ہو تو پھر اس کے کرنے میں کوئی حرج نہیں اِنَّـمَا الْاَعْـمَالُ بِالنِّیَّاتِ کا لحاظ رکھ لے۔میں نے بعض مولویوںکی نسبت ایسا بھی سنا ہے کہ صرف ونحو وغیرہ علوم کے پڑھنے سے بھی منع کرتے ہیں اور اس کو بدعت قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت یہ علوم نہ تھے یہ پیچھے سے نکلے ہیں اور ایسا ہی بعض نے توپ یا بندوق کے ساتھ لڑنا بھی گناہ قرار دیا ہے۔ایسے لوگوں کے احمق ہونے میں شک کرنا بھی غلطی ہے قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ جیسی طیاری وہ کریں تم بھی ویسی ہی طیاری کرو۔یہ مسائل دراصل اجتہادی مسائل ہیں اور ان میں نیت کا بہت بڑا دخل ہے غرض ہمارا یہ فعل اﷲ تعالیٰ جانتا ہے محض اس کی شکر گزاری کے اظہار کے لئے ہے۔ہمیشہ حُسنِ ظنّ سے کام لیناچاہیے بعض اوقات ایسابھی ہوتاہے کہ یہاں کوئی کام ہوتا ہے اور جو لوگ حُسنِ ظنّ سے کام نہیں لیتے یا اسرارِ شریعت سے ناواقف ہوتے ہیں بعض وقت ان کو ابتلا آجاتا ہے اور وہ کچھ کا کچھ سمجھ لیتے ہیں۔کبھی ایسا ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کہانیاںسنارہے ہیں اس وقت اگر کوئی نادان اور نااہل آپ کو دیکھے اور آپ کے اغراض کو مدّ ِنظر نہ رکھے تو اس نے ٹھوکر ہی کھانی ہے۔یا ایک مرتبہ آپؐحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے اور دوسری بیوی نے آپ کے لیے شورے کا پیالہ بھیجا تو حضرت عائشہ ؓنے اس پیالے کو گراکر پھوڑ دیا اب ایک ناواقف حضرت عائشہ کے اس فعل پر