ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 276

کرتے۔نماز کے ارکان بجائے خود دعا کے لئے محرک ہوتے ہیں۔حرکت میں برکت ہے۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بیٹھے بیٹھے کوئی مضمون نہیں سوجھتاجب ذرا اٹھ کر پھرنے لگے ہیںتو مضمو ن سوجھ گیا ہے اس طرح پر سب اعمال کا حال ہے اگر ان کی اصلیت کالحاظ اور مغز کا خیا ل نہ ہوتو وہ ایک رسم اور عادت رہ جاتی ہے۔اس طرح روزہ میں خدا کے واسطے نفس کو پاک رکھنا ضروری ہے لیکن اگر حقیقت نہ ہوتو پھر یہ رسم ہی رہ جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کے فضلوں پر خوشی کا اظہار کرنا چاہیے یقیناًیاد رکھوکہ جو خدا تعالیٰ کے فضل پر خو ش نہیںہوتا اور اس کا عملی اظہا ر نہیںکرتاوہ مخلص نہیں ہے۔میرے خیال میں اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے فضل پر سال بھر تک گاتا رہے تو وہ سال بھر ماتم کرنے والے سے اچھا ہے۔جو امور قال اللہ اورقال الرسول کے خلاف ہوں یا ان میں شرک یا ریا ہو اور ان میں اپنی شیخی دکھائی جاوے وہ امور اثم میں داخل ہیں اور منع ہیں۔د ف کے ساتھ شادی کا اعلان کرنا بھی اس لیے ضروری ہے کہ آئندہ اگر جھگڑا ہو تو ایسا اعلان بطور گواہ ہوجاتا ہے ایسا ہی اگر کوئی شخص نسبت اور ناطہ پر شکر وغیرہ اس لیے تقسیم کرتا ہے کہ وہ ناطہ پکا ہو جاوے تو گناہ نہیں ہے لیکن اگر یہ خیال نہ ہو بلکہ اس سے مقصد صرف اپنی شہرت اور شیخی ہو تو پھر یہ جائز نہیں ہوتے۔اسی طرح میرے نزدیک باجے کی بھی حلّت ہے۔اس میں کوئی امر خلاف شرع نہیں دیکھتے بشر طیکہ نیت میں خلل نہ ہو۔نکاحو ں میں بعض وقت جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اور وراثت کے مقدمات ہوجاتے ہیں جب اعلان ہوگیاہواہوتا ہے تو ایسے مقدمات کا انفصال سہل اور آسان ہو جاتا ہے اگر نکاح گم صم ہوگیا اور کسی کو خبر بھی نہ ہوئی تو پھر وہ تعلقات بعض اوقات قانوناً نا جائز سمجھے جاکر اولاد محروم الارث قرار دے دی جاتی ہے ایسے امور صرف جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہیں کیونکہ ان سے شرع کے قضایافیصل ہوتے ہیں۔یہ لڑکے جو پیدا ہوتے رہتے ہیں بعض وقت ان کے عقیقہ پر ہم نے دو دو ہزار آدمی کو دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہماری غرض اس سے یہی تھی کہ تا اس پیشگوئی کا جو ہر ایک کے پیدا ہونے سے پہلے کی گئی تھی بخوبی اعلان ہوجاوے۔