ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 255 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 255

اوراس نے آکر فیصلہ کیا کہ ایلیا کی آمد سے یہ مراد ہے۔اسی طرح پر حضرت یعقوب علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کے فراق میں چالیس سال تک روتے رہے آخر جاکر آپ کو خبر ملی تو کہا اِنِّيْ لَاَجِدُ رِيْحَ يُوْسُفَ ( یوسف : ۵ ۹) ورنہ اس سے پہلے آپ کا یہ حال ہوا کہ قرآن شریف میں فرمایاگیا ہے وَ ابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ ( یوسف : ۸۵) تک نوبت پہنچی اسی کے متعلق کیا اچھا کہاہے۔؎ کسے پرسید زاں گم کردہ فرزند کہ اے روشن گہر پیر خرد مند ز مصرش بوئے پیراہن شمیدی چرا در چاہ کنعانش نہ دیدی؟ ۱ ابتلا اور آزمائش کی غرض یہ بیہودہ باتیں نہیں ہیں بلکہ جب سے نبوت کا سلسلہ جاری ہوا ہے یہی قانون چلا آیا ہے۔قبل از وقت ابتلا ضرور آتے ہیں تا کچوں اور پکوں میں امتیاز ہو اور مومنوں اور منافقوں میںبیّن فرق نمودار ہو اسی لیے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ (العنکبوت:۳) یہ لوگ یہ گمان کر بیٹھے ہیں کہ وہ صرف اتنا ہی کہنے پر نجات پا جائیں کہ ہم ایمان لائے اور ان کا کوئی امتحا ن نہ ہو۔یہ کبھی نہیں ہوتا۔دنیا میں بھی امتحان اور آزمائش کا سلسلہ مو جو د ہے جب دنیاوی نظام میں یہ نظیر موجود ہے تو رو حا نی عالم میں یہ کیوں نہ ہو؟ بغیر امتحان اور آزمائش کے حقیقت نہیں کھلتی۔آزمائش کے لفظ سے یہ کبھی دھو کا نہ کھانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کوجو عالم الغیب اور یَعْلَمُ السِّـرَّ وَالْـخَفِیَّ ہے امتحان یا آزمائش کی ضرورت ہے اور بدوںامتحان اور آزمائش کے اس کو کچھ معلوم نہیںہوتا ایسا خیال کرنا نہ صرف غلطی بلکہ کفر کی حد تک پہنچتاہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان صفات کا انکار ہے۔امتحان یا آزمائش سے اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ تا حقائق مخفیہ کا اظہار ہو جاوے اور شخص زیر امتحان