ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 256

پر اس کی حقیقت ایمان منکشف ہو کر اسے معلوم ہو جاوے کہ وہ کہاں تک اللہ کے ساتھ صدق، اخلاص اور وفا رکھتا ہے اور ایسا ہی دوسرے لوگوں کو اس کی خوبیوں پراطلاع ملے۔پس یہ خیال باطل ہے اگر کوئی کرے کہ اﷲ تعالیٰ جو امتحان کرتا ہے تو اس سے پایا جاتا ہے اس کو علم نہیں۔اس کو تو ذرّہ ذرّہ کا علم ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ ایک آدمی کی ایمانی کیفیتوں کے اظہار کے لئے اس پر ابتلا آویں اور وہ امتحان کی چکی میں پیسا جاوے۔کسی نے کیا اچھا کہا ہے۔؎ ہر بلا کیں قوم را حق دادہ اند زیر آں گنج کرم بنہادہ اند ابتلائوں اور امتحانوں کا آنا ضروری ہے بغیر اس کے کشف حقائق نہیں ہوتا۔یہودی قوم کے لئے یہ ابتلا جو مسیح کی آمد کا ابتلا تھا بہت ہی بڑا تھا اور جب کبھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور آتا ہے ضرور ہے کہ وہ ابتلائوں کولے کر آوے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی توریت میں مثیلِ موسیٰ والی موجود ہے لیکن کیا کہنے والے نہیں کہتے کہ کیوں اﷲ تعالیٰ نے پورا نام لے کر نہ بتایا اور سارا پتہ نہ دے دیا کہ وہ عبداﷲ کے گھر میں آمنہ کے پیٹ سے پیدا ہو گا اور اسما عیلی سلسلہ میں ہو گا تیرے بھائیوں کا لفظ کیوں کہہ دیا؟ اصل بات یہ ہے کہ اگر ایسی ہی صراحت سے بتادیا جاتا تو پھر ایمان ایمان نہ رہتا۔دیکھو! اگر ایک شخص پہلی رات کا چاند دیکھ کر بتادے تو وہ تیز نظر کہلا سکتا ہے لیکن اگر کوئی چودھویں کا چاند دیکھ کر کہہ دے کہ میں نے بھی چاند دیکھ لیا ہے تو کیا لوگ اس پر ہنسیں گے نہیں؟ یہی حال خدا تعالیٰ کے رسولوں اور نبیوں کی شناخت کے وقت ہوتا ہے جو لوگ قرائن قویہ سے شناخت کر لیتے اور ایمان لے آتے ہیں وہ اوّل المؤمنین ٹھہرتے ہیں ان کے مدارج اور مراتب بڑے ہوتے ہیں لیکن جب ان کا صدق آفتاب کی طرح کھل جاتا ہے اور ان کی ترقی کا دریا بہہ نکلتا ہے تو پھر ماننے والے عوام الناس کہلاتے ہیں۔جب خدا تعالیٰ کا ہمیشہ سے ایک قانون سلسلہ نبوت کے متعلق چلا آتا ہےاور اس کے اپنے ماموروں کے ساتھ یہی سنّت ہے تو میں اس سے الگ کیونکر ہو سکتا ہوں۔پس اگر ان لوگوں کے دل