ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 254 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 254

میں ان کا دعویٰ سچا ہے کہ وہ شخص خود ہی آتا ہے تو پھر حضرت عیسیٰ پر جو الزام عائد ہوتا ہے اسے دور کر کے دکھاویں۔اوّل یہ ان کا فیصلہ فراست صحیحہ سے نہیںہوا۔اور دوسرے معاذاللہ وہ جھوٹے نبی ہیں کیونکہ ایلیا تو آسمان سے آیا ہی نہیں وہ کہاں سے آگئے ؟ اس صورت میں فیصلہ یہودیوں کے حق میں صادر ہوگااس کا جواب ہمارے مخالف مسلمان ہم کو ذرا دے کر تو دکھائیں۔لیکن یہ ساری مصیبت ان پر اس ایک امر سے آتی ہے جو کہتے ہیں کہ ہم استعارہ نہیں مانتے اصل بات یہی ہے اور وہی فیصلہ حق ہے جو مسیح نے دیا ہے کہ ایلیا کے آنے سے مرا یہ تھی کہ اس کی خُو اور طبیعت پر اس کا مثیل آئے گا اس کے خلاف ہرگز ثابت نہیںہو سکتا۔مشرق یا مغرب میں پھرو اور اس کی نظیر لاؤ کہ دو بارہ آنے والا خود ہی آیا کرتاہے۔اس اعتقاد کو دل میں جگہ دو گے تو نتیجہ وہی ہو گا کہ اسلام ہاتھ سے جائے گا۔مسیح کو یہودیوں نے اسی وجہ سے جھوٹا قرار دیا۔کیا ہمارے مخالف مسلمان بھی چاہتے ہیں کہ اس کو جھوٹا قرار دیں ؟ پھر ایک اور اعتراض اسی قصّہ کی بدولت پیدا ہو تا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر مسیحؑ مردوں کو زندہ کرتے تھے یا وہ قدرتیں اور طاقتیں ان میں موجود تھیں جو ان کی طرف منسوب کی جاتی ہیں تو پھر کیا وجہ ہوئی کہ انہوں نے ایلیا کو زندہ نہ کر لیا یا آسمان سے بہ اختیار خود نہ اتارلیا۔میر ے مقدمہ کے فیصلہ سے پہلے میرے مخالفوں کوضرور ہے کہ وہ اس قضیہ کو صاف کر لیں جو مسیح کو پیش آیا اورجس کافیصلہ انہوں نے میرے حق میں کیا ہے۔بات یہ ہے کہ بہت سی باتیں پیشگوئیوں کے طور پر نبیوں کی معرفت لوگوں کو پہنچتی ہیں اور جب تک وہ اپنے وقت پرظاہر نہ ہوں ان کی بابت کوئی یقینی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔لیکن جب ان کاظہور ہوتاہے اور حقیقت کھلتی ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس پیشگوئی کایہ مفہوم او رمنشاتھا۔اور جو شخص اس کامصداق ہو یاجس کے حق میں ہو اس کو اس کا علم دیا جاتاہے جیسے فقیہ اورفریسی برابر ایلیا کے دوبارہ آنے کاقصہ پڑھتے رہتے تھے اور وہ نہایت شوق کے ساتھ اس کاانتظار کرتے رہے لیکن اس کی حقیقت اور اصلیت کا علم ان کو اس وقت تک عطا نہ ہواجب تک کہ خود آنے والا مسیحؑ جس کے آنے کاوہ نشان تھانہ آگیا۔پس یہ علم مسیحؑ کو ملا