ملفوظات (جلد 2) — Page 245
جو اس فساد کی آگ کو بجھائے۔مگر خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہم کو صرف ضروریاتِ محسوسہ مشہودہ تک ہی نہیں رکھا بلکہ اپنے رسول کی عظمت وعزّت کے اظہار کے لئے بہت سی پیشگوئیاں پہلے سے اس وقت کے لئے مقرر رکھی ہوئی ہیں جن سے صاف پایا جاتا ہے کہ اس وقت ایک آنے والا مرد ہے اور اس کا نام مسیح موعود اور اس کا کام کسر صلیب ہے اب اس ترتیب کے ساتھ ہر ایک سلیم الفطرت کو اتنا تو ماننا پڑے گا کہ بجز اس تسلیم کے چارہ نہیں کہ کوئی مرد آسمانی آوے اور اس کا کام اس وقت کسر صلیب ہی ہونا چاہیے۔کسرِ صلیب کی حقیقت لیکن غور طلب یہ امر ہے کہ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ کسر صلیب مسیح موعود کا کام ہو گا اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا وہ لکڑی کی صلیب کو توڑے گا؟ اور اس سے فائدہ کیا ہوگا؟صاف ظاہر ہے کہ لکڑی کی صلیب کو اگر توڑتا پھرے گا تو یہ کوئی عظیم الشان کام نہیں اور نہ اس کا کوئی معتد بہ فائدہ ہو سکتا ہے اگر وہ لکڑی کی صلیب کو توڑ دے گا تو اس کی بجائے سونے چاندی اور دھاتوں کی صلیبیں عیسائی بنالیں گے اور ا س سے کیا نقصان ہوا اور پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور یزید اور صلاح الدین نے بہت سی صلیبیں توڑیں تو کیا وہ اس ایک امر سے مسیح موعود بن گئے؟نہیں ہرگز نہیں۔معلوم ہوا کہ اس سے یہ مراد ہرگز نہیں ہو سکتی کہ وہ لکڑی کی صلیب جو بعض عیسائیوں نے لٹکائی ہوتی ہے مسیح موعود توڑتا پھرے گا بلکہ اس کے اندر ایک حقیقت ہے اور اس حقیقت کی تائید میں حدیث کا ایک اور لفظ یَضَعُ الْـحَرْبَ کا آیا ہے یعنی مسیح موعود لڑائیوں کواٹھادے گا اب ہمیں کوئی سمجھائے کہ ایک طرف تو مسیح موعود کا یہ کام ہے کہ وہ لڑائی کے سلسلہ کو یک دفعہ اٹھادے اور دین کے لئے لڑائی کا نام لینا حرام سمجھا جاوے اور دوسری طرف یہ بھی صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہ زمانہ امن کا زمانہ ہوگا اور سلطنت عادل سلطنت ہوگی جس سے اور بھی تقویت ہوتی ہے اس منشا کی کہ اس وقت لڑائیاں حرام ہوں گی۔اچھا، لڑائیاں ہوں گی نہیں اور صلیب توڑنا مسیح موعود کا کام ہے پھر سوچ کر دیکھو کہ ہمارے اس دعویٰ کی تائید صاف طور پر ہوتی ہے یا نہیں کہ صلیب توڑنے سے یہ لکڑی یا پیتل