ملفوظات (جلد 2) — Page 246
وغیرہ کی صلیبیں (جو عیسائی تبرک کے طور پر گلے میں لٹکاتے پھرتے ہیں) توڑنا مراد نہیں ہے بلکہ یہ لفظ ایک اور حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ وہی ہے جو ہم لے کر آئے ہیں۔ہم نے صاف طور پر اعلان کیا ہے کہ اس وقت جہاد حرام ہے کیونکہ جیسے مسیح موعود کا وہ کام ہے یَضَعُ الْـحَرْبَ بھی اسی کا کام ہے۔اس کام کی رعایت سے ہم کوضروری تھا کہ جہاد کے حرام ہونے کا فتویٰ صادر کریں۔پس ہم کہتے ہیں کہ اس وقت دین کے نام سے تلوار یا ہتھیار اٹھانا حرام اور سخت گناہ ہے۔ہم کو ان و حشی سرحدیوں پر افسوس آتا ہے کہ وہ آئے دن جہاد کے نام سے بعض وارداتیں کر کے جو دراصل اپنا پیٹ پالنے کے لئے کرتے ہیں اسلام کو بدنام کرتے ہیں اور امن میں خلل انداز ہوتے ہیں۔ایک سچے مسلمان کو ان وحشیوں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہونی چاہیے تو پھر یَکْسِـُر الصَّلِیْبَ کے کیا معنے ہیں؟توجہ سے سننا چاہیے کہ مسیح موعود کی بعثت کا وقت غلبہ صلیب کے وقت ٹھہرایا گیا ہے اور وہ صلیب کو توڑنے کے لئے آئے گا۔اب مطلب صاف ہے کہ مسیح موعود کی آمد کی غرض عیسوی دین کا ابطال کلّی ہو گا اور وہ حجت و براہین کے ساتھ جن کو آسمانی تائیدات اور خوارق اور بھی قوی کر دیں گے وہ صلیب پرستی کے مذہب کو باطل کرکے دکھادے گا اور اس کا باطل ہونا دنیا پر روشن ہو جائے گا اور لاکھوں روحیں اعتراف کر لیں گی کہ فی الحقیقت عیسائی دین انسان کے لئے رحمت کا باعث نہیں ہو سکتا یہی وجہ ہے کہ ہماری ساری توجہ اس صلیب کی طرف لگی ہوئی ہے۔صلیب کی شکست میں کیا کوئی کسر باقی ہے؟ موت مسیح کے مسئلہ نے ہی صلیب کو پاش پاش کر دیا ہے کیونکہ جب یہ ثابت ہو گیا کہ مسیح صلیب پر مَرا ہی نہیں بلکہ وہ اپنی طبعی موت سے کشمیر میں آکر مَرا۔تو کوئی عقل مند ہمیں بتائے کہ اس سے صلیب کا باقی کیا رہتا ہے؟ اگر تعصّب اور ضدّ نے بالکل ہی انسان کے دل کو تاریک اور اس کی عقل کونا قابل فیصلہ نہ بنادیا ہو تو ایک عیسائی کو بھی یہ اقرار کرنا پڑے گا کہ اس مسئلہ سے عیسائی دین کا سارا تا ر و پود اُدھڑ جاتا ہے۔۱ مسیح موعود کا ظہور غلبہءِ صلیب کے وقت مقدر تھا غرض یہ بات بالکل صاف ہے کہ مسیح موعود کو اﷲ تعالیٰ اس