ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 244

وہی چھوڑے گا۔میں قرآن اور حدیث کا مصدق و مصداق ہوں میں گمراہ نہیں بلکہ مہدی ہوں۔میں کافر نہیں بلکہ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ کا مصداق صحیح ہوں اور یہ جو کچھ میں کہتا ہوں خدا نے مجھ پر ظاہر کیا کہ یہ سچ ہے۔خدا تعالیٰ سے فیصلہ طلب کریں جس کو خدا پر یقین ہے جو قرآن اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق مانتا ہے اس کے لئے یہی حجت کافی ہے کہ میرے منہ سے سن کر خاموش ہو جائے لیکن جو دلیر اور بے باک ہے اس کا کیا علاج! خدا خود اس کو سمجھائے گا اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ خدا کے واسطے اس امر پر غور کریں اور اپنے دوستوں کو بھی وصیت کریں کہ وہ میرے معاملہ میں جلدی سے کام نہ لیں بلکہ نیک نیتی اور خالی الذہن ہو کر سوچیں اور پھر خدا تعالیٰ سے اپنی نمازوں میں دعائیں مانگیں کہ وہ ان پر حق کھول دے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر انسان تعصّب اور ضدّ سے پاک ہو کر حق کے اظہارکے لئے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرے گا تو ایک چلّہ نہ گزرے گا کہ اس پر حق کھل جاوے گا مگر بہت ہی کم لوگ ہیں جو اِن شرائط کے ساتھ خدا سے فیصلہ چاہتے ہیں اور اس طرح پر اپنی کم سمجھی یا ضدّ و تعصّب کی وجہ سے خدا کے ولی کا انکار کر کے ایمان سلب کر لیتے ہیں کیونکہ جب ولی پر ایمان نہ رہے تو ولی جو نبوت کے لئے بطور میخ کے ہے۔اسے پھر نبوت کا انکار کرنا پڑتا ہے اور نبی کے انکار سے خدا کا انکار ہوتا ہے اور اس طرح پر بالکل ایمان سلب ہو جاتا ہے۔ایک مصلح کی ضرورت اس وقت ضروری ہے کہ خوب غور کر کے دیکھا جاوے کہ کیا عیسائی فتنہ نہیں ہے جو مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ (الانبیاء : ۹۷)کے مصداق ہو کر لاکھوں انسانوں کو گمراہ کر رہا ہے اور مختلف طریق اس نے اپنی اشاعت کے رکھے ہیں۔اب وقت ہے کہ اس سوال کا جواب دیا جاوے کہ اس فتنہ کی اصلاح والے کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا رکھا ہے؟ صلیب کا زور تو دن بدن بڑھ رہا ہے اور ہر جگہ اس کی چھاؤنیاں قائم ہوتی جاتی ہیں مختلف مشن قائم ہو کر دو ر و دراز ملکوں اور اقطاع عالم میں پھیلتے جاتے ہیں اس لئے اگر اور کوئی بھی ثبوت اور دلیل نہ ہوتی تب بھی طبعی طور پر ہم کو ماننا پڑتا کہ اس وقت ایک مصلح کی ضرورت ہے