ملفوظات (جلد 2) — Page 243
نہیں ہے معاذاﷲ۔کیونکہ اس سلسلہ کی اتم مشابہت اور مماثلت کے لئے ضروری تھا کہ اس چودھویں صدی پر اس امت میں سے ایک مسیح پیدا ہوتا اسی طرح پر جیسے موسوی سلسلہ میں چودھویں صدی پر ایک مسیح آیا اور اسی طرح پر قرآن شریف کی اس آیت کو بھی جھٹلانا پڑے گا جو اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ(الـجمعۃ : ۴) میں ایک آنے والے احمدی بروز کی خبر دیتی ہے اور اس طرح پر قرآن شریف کی بہت سی آیتیں ہیں جن کی تکذیب لازم آئے گی بلکہ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اَلْـحَمْدُ سے لے کر وَالنَّاسِ تک سارا قرآن چھوڑنا پڑے گا پھر سوچو! کیا میری تکذیب کوئی آسان امر ہے یہ میں ازخود نہیں کہتا، خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حق یہی ہے کہ جو مجھے چھوڑے گا اور میری تکذیب کرے گا وہ زبان سے نہ کرے مگر اپنے عمل سے اس نے سارے قرآن کی تکذیب کردی اور خدا کو چھوڑ دیا۔اس کی طرف میرے ایک الہام میں بھی اشارہ ہے اَنْتَ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْکَ بے شک میری تکذیب سے خدا کی تکذیب لازم آتی ہے اور میرے اقرار سے خدا تعالیٰ کی تصدیق ہوتی اور اس کی ہستی پر قوی ایمان پیدا ہوتا ہے۔اور پھر میری تکذیب میری تکذیب نہیں یہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے اب کوئی اس سے پہلے کہ میری تکذیب اور انکار کے لئے جرأت کرے۔ذرا اپنے دل میں سوچے اور اس سے فتویٰ طلب کرے کہ وہ کس کی تکذیب کرتا ہے؟ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیوں تکذیب ہوتی ہے؟ اس طرح پر کہ آپؐ نے جو وعدہ کیا تھا کہ ہر صدی کے سر پر مجدّد آئے گا وہ معاذاﷲ جھوٹا نکلا اورپھر آپ نے جو اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ فرمایا تھا وہ بھی معاذاﷲ غلط ہوا ہے اور آپ نے جو صلیبی فتنہ کے وقت ایک مسیح و مہدی کے آنے کی بشارت دی تھی وہ بھی معاذاﷲ غلط نکلی کیونکہ فتنہ تو موجود ہو گیا مگر وہ آنے والا امام نہ آیا۔اب ان باتوں کو جب کوئی تسلیم کرے گا عملی طور پر کیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مکذّب ٹھہرے گا یا نہیں؟ پس پھر میں کھول کر کہتا ہوں کہ میری تکذیب آسان امر نہیں۔مجھے کافر کہنے سے پہلے خود کافر بننا ہوگا۔مجھے بے دین اور گمراہ کہنے میں دیر ہوگی مگر پہلے اپنی گمراہی اور روسیاہی کو مان لینا پڑے گا۔مجھے قرآن اور حدیث کو چھوڑنے والا کہنے کے لئے پہلے خود قرآن اور حدیث کو چھوڑدینا پڑے گا اور پھر بھی