ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 242

کرتے۔کیونکہ صدی کا سر آگیا تھا اور اب تو جب کہ بیس برس گزرنے کو ہیں اور بھی زیادہ فکر کی ضرورت تھی۔موجودہ فساد اپنی جگہ پر پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ کوئی شخص اس کی اصلاح کے لئے آنا چاہیے عیسائیت نے وہ آزادی اور بے قیدی پھیلائی ہے جس کی کوئی حد ہی نہیں ہے اور مسلمانوں کے بچوں پر جو اس کا اثر ہوا ہے اسے دیکھ کر تو کہنا پڑتا ہے کہ مسلمانوں کے بچے ہی نہیں ہیں۔کاسر الصلیب مسیح موعود کا ہی دوسرا نام ہے ساری باتوں کو چھوڑ دو اس صلیبی فتنہ ہی کی اصلاح کے لئے جو شخص آئے گا اس کا نام کیا رکھا جاوے گا؟ یہ فتنہ بالطبع اپنی اصلاح کرنے والے کا نام کاسر الصلیب رکھتا ہے اور یہ مسیح موعود کا دوسرا نام ہے۔قرآن اور حدیث نے مختلف طریقوں پر اس مضمون کو ادا کیا ہے اور آنے والے موعود کی بشارت دی ہے۔اس کو خوب سمجھ لینا چا ہئے۔کیونکہ جب انسان ناقص طور پر سمجھتا ہے گویا کچھ نہیں سمجھتا لیکن جب کامل غور اور فکر کے بعد ایک بات کو سمجھ لیتا ہے پھر مشکل ہوتا ہے کہ کوئی اسے گمراہ کر سکے۔اس لئے میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ اس سوال کو حل کرنے کی خوب فکر کریں۔یہ معمولی اور چھوٹی سی بات نہ سمجھیں بلکہ یہ ایمان کا معاملہ ہے جنت اور دوزخ کا سوال ہے۔مسیح موعود کی تکذیب اور انکار کا نتیجہ میرا انکار میرا انکار نہیں ہے بلکہ یہ اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار ہے کیونکہ جو میری تکذیب کرتا ہے وہ میری تکذیب سے پہلے معاذاﷲ اﷲ تعالیٰ کوجھوٹا ٹھہرا لیتا ہے جبکہ وہ دیکھتا ہے کہ اندرونی اور بیرونی فساد حد سے بڑھے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ نے باوجود وعدہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (الـحجر : ۱۰) کے ان کی اصلاح کا کوئی انتظام نہ کیا؟ جب کہ وہ اس امر پر بظاہر ایمان لاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آیت استخلاف میں وعدہ کیا تھا کہ موسوی سلسلہ کی طرح اس محمدی سلسلہ میں بھی خلفاء کا سلسلہ قائم کرے گا مگر اس نے معاذاﷲ اس وعدہ کو پورا نہیں کیا اور اس وقت کوئی خلیفہ اس امت میں نہیں؟ اور نہ صرف یہاں تک ہی بلکہ اس بات سے بھی انکار کرنا پڑے گا کہ قرآن شریف نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسیٰ قرار دیا ہے یہ بھی صحیح