ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 233

ہے کہ اسلام پر اس وقت دو قسم کی آفتیں آئی ہیں۔اندرونی اور بیرونی۔اسلام کی اندرونی حالت اندرونی طور پر یہ حالت اسلام کی ہو گئی ہے کہ بہت سی بدعتیں اور شرک سچی توحید کے بجائے پیدا ہوگئے ہیں اعمال صالحہ کی جگہ صرف چند رسومات نے لے لی ہے۔قبر پرستی اور پیرپرستی اس حدتک پہنچ گئی ہے کہ وہ بجائے خود ایک مستقل شریعت ہو گئی ہے۔مجھ کو ہمیشہ تعجب اور حیرت ہوئی ہے کہ مجھ کو یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے حالانکہ اس امر کو انہوں نے نہیں سمجھا کہ میں کیا کہتا ہوں مگر اپنے گھر میں یہ لوگ ہرگز غور نہیں کرتے کہ نبوت کا دعویٰ تو انہوں نے کیا ہے جنہوں نے اپنی شریعت بنالی ہے کوئی بتائے کہ وہ ورد اور وظائف جو سجادہ نشین اور مختلف گدیوں والے اپنے مریدوں کو سکھاتے ہیں، مَیں نے ایجاد کئے ہیں؟ یا میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت اور سنّت پر عمل کرتا ہوں اور اس پر ایک نقطہ یا شعشہ بڑھا نا کفر سمجھتا ہوں اور ہزار ہا قسم کی بدعات ہر فرقہ اور گروہ میں اپنے اپنے رنگ کی پیدا ہو چکی ہیں۔تقویٰ اور طہارت جو اسلام کا اصل منشا اور مقصود تھا جس کے لئے آنحضرت اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطرناک مصائب برداشت کیں جن کو بجز نبوت کے دل کے کوئی دوسرا برداشت نہیں کر سکتا وہ آج مفقودو معدوم ہو گیا ہے۔جیل خانوں میں جا کر دیکھو کہ جرائم پیشہ لوگوں میں زیادہ تعداد کن کی ہے۔زنا، شراب اور اتلاف حقوق اور دوسرے جرائم اس کثرت سے ہو رہے ہیں کہ گویا یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ کوئی خدا نہیں۔اگر مختلف طبقات قوم کی خرابیوں اور نقائص پر مفصل بحث کی جاوے تو ایک ضخیم کتاب طیار ہوجاوے۔ہردانش مند اور غور کرنے والا انسان قوم کے مختلف افراد کی حالت پر نظر کر کے اس صحیح اور یقینی نتیجہ پر پہنچ جاوے گا کہ وہ تقویٰ جو قرآن کریم کی علّتِ غائی تھا جو اکرام کا اصل موجب اور ذریعہ شرافت تھا آج موجود نہیں۔عملی حالت جس کی اشد ضرورت تھی کہ اچھی ہوتی جو غیروں اور مسلمانوں میں مابہ الامتیاز تھی سخت کمزور اور خراب ہو گئی ہے۔