ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 234

بیرونی آفات، عیسائی مذہب کی طرف سے اسلام کی مخالفت بیرونی حصہ میں دیکھ لو کہ جس قدر مذاہب مختلفہ موجود ہیں ان میں سے ہر ایک اسلام کو نابود کرنا چاہتا ہے۔خصوصیت کے ساتھ عیسائی مذہب اسلام کا سخت دشمن ہے عیسائی مشنریوں اور پادریوں کی ساری کوششیں اس ایک امر میں صرف ہو رہی ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو جس طرح ممکن ہو اسلام کو نابود کیا جاوے اور اس توحید کو جو اسلام نے قائم کی تھی جس کے لئے اس کو بہت سی جانوں کا کفارہ دینا پڑا تھا اسے ناپید کرکے یسوع کی خدائی کا دنیا کو قائل کرایا جاوے اور اس کے خون پر یقین دلایا جاوے جو بے قیدی، آزادی اور اباحت کی زندگی کو پیدا کرتا ہے اور اس طرح پر وہ پاک غرض تقویٰ وطہارت اور عملی پاکیزگی کی جو اسلام کا مدّعا تھا مفقود کی جاوے۔عیسائی پادریوں نے اپنی ان اغراض میں کامیابی حاصل کرنے کے واسطے بہت سے طریقے اختیار کئے ہیں اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو مرتد کر لیا اور بہت سے ہیں جن کو نیم عیسائی بنا دیا ہے اور بہت بڑی تعداد اُن لوگوں کی ہے جو ملحدانہ طبیعت رکھتے ہیں اور اپنی طرز بود و باش اور رفتار و گفتار میں عیسائیت کے اثر سے متاثر ہیں۔نوجوانوں کی ایک جماعت اور مخلوق ہے جو مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئی ہے اور کالجوں میں اس کی تربیت ہوئی۔وہ خدا تعالیٰ کے کلام کے بجائے فلسفہ اور طبیعیات کی قدر کرتی ہے اور اس کو مقدم اور ضروری سمجھتی ہے اسلام اس کے نزدیک عر ب کے جنگلوں کے حسب حال تھا۔ان باتوں اور حالتوں کو جب میں دیکھتا ہوں اور سنتا ہوں میں دوسروں کی بابت کچھ نہیں کہہ سکتا مگر میرے دل پر سخت صدمہ ہوتا ہے کہ آج اسلام ان مشکلات اور آفتوں میں پھنسا ہوا ہے اور مسلمانوں کی اولاد کی یہ حالت ہو رہی ہے جو وہ اسلام کو اپنے مذاق ہی کے خلاف سمجھتے ہیں۔تیسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو الٰہی حدود سے باہر تو نہیں ہوئے۔حلال کو حرام نہیں کرتے مگر وضع قطع لباس پسند کرتے ہیں انہوں نے ایک قدم نصرانیت میں رکھا ہوا ہے۔اب صاف سمجھ میں آتا