ملفوظات (جلد 2) — Page 232
رحم ضرور آتا ہے کہ نادان اپنی نادانی سے خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کاتا ہے۔ہر صدی کے سر پر مجدّدکا ظہور یہ بات مسلمانوں میں ہر شخص جانتا ہے اور غالباً کسی کو بھی اس سے بے خبری نہ ہوگی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر ایک مجدّد کو بھیجتا ہے جو دین کے اُس حصہ کو تازہ کرتا ہے جس پر کوئی آفت آئی ہوئی ہوتی ہے۔یہ سلسلہ مجدّدوں کے بھیجنے کا اﷲ تعالیٰ کے اس وعدہ کے موافق ہے جو اس نے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ( الـحجر : ۱۰) میں فرمایا ہے پس اس وعدہ کے موافق اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کے موافق جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اﷲ تعالیٰ سے وحی پا کر فرمائی تھی یہ ضروری ہوا کہ اس صدی کے سر پر جس میں سے انیس برس گذر گئے کوئی مجدّد اصلاح دین اور تجدید ملّت کے لئے مبعوث ہوتا اس سے پہلے کہ کوئی خدا تعالیٰ کا مامور اس کے الہام و وحی سے مطلع ہو کر اپنے آپ کو ظاہر کرتا مستعد اور سعید فطرتوں کے لئے ضروری تھا کہ وہ صدی کا سر آجانے پر نہایت اضطراب اور بے قراری کے ساتھ اس مرد آسمانی کی تلاش کرتے اور اس آواز کے سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہو جاتے جو انہیں یہ مژدہ سناتی کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے وعدہ کے موافق آیا ہوں۔چودھویں صدی کا مجدّد یہ سچ ہے کہ چودھویں صدی پر اکابرانِ امت کی نظریں لگی ہوئی تھیں اور تمام کشوف اور رؤیا اور الہامات اس امر کی طرف ایما کرتے تھے کہ اس صدی پر آنے والا موعود عظیم الشان انسان ہو گا جس کانام احادیث میں مسیح موعود اور مہدی آیا ہے مگر میں کہوں گا کہ جب وہ وقت آگیا اور آنے والا آگیا تو بہت تھوڑے وہ لوگ نکلے جنہوں نے اس کی آواز کو سنا غرض یہ بات کوئی نرالی اور نئی نہیں ہے کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدّد آتا ہے پس اس وعدہ کے موافق ضروری تھا کہ اس صدی میں بھی جو انیس سال تک گذر چکی ہے مجدّد آئے۔اب اس دوسرے پہلو کو دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کیا اس وقت اسلام کے لئے کوئی آفات اور مشکلات ایسی پیدا ہوگئی ہیں جو کسی مامور کے لئے داعی ہیں جب ہم اس پہلو پر غور کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا