ملفوظات (جلد 2) — Page 220
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۰ جلد دوم اصلاح کے لئے قرآن شریف بھیجا ہے۔ اگر پھونک مار کر اصلاح کر دینا خدا تعالیٰ کا قانون ہوتا تو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ برس تک مکہ میں کیوں تکلیفیں اٹھاتے ابو جہل وغیرہ پر اثر کیوں نہ ڈال دیتے ۔ ابو جہل کو جانے دو ابو طالب کو تو آپ سے بھی محبت تھی ۔ غرض بے صبری اچھی نہیں ہوتی۔ اس کا نتیجہ ہلاکت تک پہنچاتا ہے۔' ۲ اگست ۱۹۰۱ء ( دارالامان میں ) آج جمعہ کا دن ہے۔ صبح آٹھ بجے کے قریب ڈاکٹر رحمت علی صاحب ہاسپٹل اسسٹنٹ چھاؤنی میانمیر تشریف لائے۔ جمعہ کی نماز چھوٹی اور بڑی دونوں مسجدوں میں ادا ہوئی ۔ صاحبزادہ مبارک احمد سلمہ اللہ تعالیٰ کی طبیعت آج محمد اللہ نسبتاً بہت اچھی رہی۔ مغرب کی نماز کے بعد حضرت اقدس ایدہ اللہ بنصرہ حسب معمول بعد نماز بیٹھے رہے۔ ایک شخص کے نے جو کئی دن ۔ دن سے دارالامان میں آیا ہوا تھا ایک عجیب حرکت کی۔ اس نے قرآن شریف کو ہاتھ میں لے کر کہا کہ یا امام پاک! یہ خدا کا کلام ہے۔ میں اس کو پیش کرتا ہوں اور تین سور و پیہ آپ سے مانگتا ہوں اور قرآن شریف کو بار بار حضرت اقدس کے ہاتھ میں دیتا اور اصرار کرتا تھا کہ آپ اس کو رکھیں۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم قرآن شریف ہی کی تعلیم دینے کو آئے اس زمانہ کی سب سے بڑی ضرورت ہیں ۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف تو اس لیے ۔ بھیجا ہے کہ اس پر عمل کیا جاوے۔ اس میں کہیں نہیں لکھا کہ خدا کسی کو مجبور کرتا ہے۔ انسان کی ہر ہے۔ حالت خواہ وہ آرام کی ہو یا تکلیف کی گزر ہی جاتی ہے کیونکہ وقت تو اس کی پروا نہیں کرتا۔ چنانچہ کسی نے کہا ہے شب تنور گزشت و شب سمور گزشت۔ پھر انسان کیوں کر اس کام کو مقدم نہ کرے۔ جو اس کا اصل فرض ہے۔ ہمارے نزدیک سب سے بڑی ضرورت آج اسلام کی زندگی کی ہے۔ اسلام ہر قسم کی خدمت کا محتاج ہے۔ اس کی ضرورتوں پر ہم کسی ضرورت کو مقدم نہیں کر سکتے ۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۱ ء صفحه ۶ ہے اس شخص کا نام مقصود علی ہے اور وہ محکمہ پولیس میں ملازم ہے اور قادیان میں کسی خاص ڈیوٹی پر آیا تھا۔ایڈیٹر تھا۔ ایڈیٹر