ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 198

ہوگئے کہ اس شخص کو قتل کر دیا جاوے گا جو آپ کو مُردہ کہے گا اور اس سے ایک عظیم شور مچ گیا۔اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور خطبہ پڑھا مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (اٰلِ عمران : ۱۴۵ ) اب ایک دانش مند اور سلیم الفطرت انسان بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ اگر حضرت ابوبکرؓ یا کسی صحابی کے ذہن میں مسیح ابن مریم کی زندگی کا خیال تھا تو یہ استدلال تام کیونکر ہوسکتا تھا اور کیوں کسی صحابی نے نہ کہا کہ یہ آپ کیا کہتے ہیں۔مسیح تو ابھی زندہ ہے مگر نہیں سب خاموش ہوگئے اور حضرت عمرؓ کی بھی تسلی ہوگئی۔صحابہؓ کی ایسی حالت ہوئی کہ بازاروں میں اس آیت کو پڑھتے تھے۔۱ پھر جب کہ صحابہ کا اجماع اس مسئلہ پر ہوچکا اور قرآن شریف میں ایک جگہ اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ (اٰلِ عـمران : ۵۶ ) خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے اور دوسری جگہ مسیح علیہ السلام خود فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ(المائدۃ: ۱۱۸) کہہ کر اپنی موت کا اقرار کرتے ہیں۔اس پر بھی اگر کوئی ان کی زندگی ہی کا اقرار کرتا رہے تو عجب بات ہے۔مدعی سُست گواہ چست۔اور سب سے عجیب یہ بات ہے کہ یہی الفاظ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی بولے گئے ہیں یعنی یہی لفظ توفّی کا۔اب اگر توفّی کے معنے موت کے نہیں ہیں تو چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی یہ معنے نہ کئے جائیں۔غرض یہ توفّی کا لفظ جو قریباً تیئس مرتبہ قرآن شریف میں آیا ہے اور انہیں معنوں میں آیا ہے پھر اس سے انکار کرنا سعادت اور رُشد کے خلاف ہے۔یہ سارے شواہد مسیح علیہ السلام کی وفات پر قوی دلائل ہیں۔علاوہ ازیں جیسا کہ مسیح علیہ السلام اس آیت میں فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ میں اقرار کرتے ہیں۔اگر وہ نہیں مَرے بلکہ زندہ ہیں تو ماننا پڑے گا کہ مسیح کی پرستار قوم بھی نہیں بگڑی اور ان میں مسیح و مریم کو خدا بنانے والے پیدا نہیں ہوئے حالانکہ یہ واقعات صحیحہ کے خلاف ہے۔مسیح کے پرستار دنیا میں موجود ہیں اور مریم کو خدا بنانے والے رومن کیتھولک بھی کثرت سے ہیں۔اب جس کا عقیدہ یہ ہے کہ عیسیٰ زندہ ہیں تو قرآن کے رو سے اس کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ عیسائی بگڑے نہیں اور یہ مان کر پھر قرآن سے ہاتھ دھونے پڑیں گے کیونکہ اس کو واقعات ِصحیحہ کے خلاف ماننا پڑے گاو نعوذ باللہ من ذالک۔۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۳۰ مورخہ ۱۷؍ اگست ۱۹۰۱ء صفحہ ۵ تا ۸