ملفوظات (جلد 2) — Page 199
مُتَوَفِّيْكَ کے معنے کرنے میں ہم نے ہی یہ معنے نہیںنکالے ہیںبلکہ اہلِ لُغت نے یہی معنے کئے ہیں۔امام بخاری نے مُتَوَفِّيْكَ کے معنے مُـمِیْتُکَ صاف کردیئے ہیں پھر عقل بھی ہماری تائید کرتی ہے۔کسی کو آج تک کبھی آسمان پرجاتے نہ دیکھا اور نہ آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا پھر عقل تو بِدُوں نظیر کے مانتی نہیں اگر کوئی پہلے بھی ایسا واقعہ ہوا ہے تو اس کو بطور نظیر پیش کرو۔اب رہی تائیداتِ سماویہ، میں اگر یہ کہوں کہ میرے نشانات کے کروڑوں آدمی گواہ ہیں تو یہ امر مبالغہ میں داخل نہیں ہے مثلاً لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی۔چھ سال پیشتر اس کی موت، صورتِ موت وغیرہ سے پوری اطلاع دی گئی اور ایسا ہی ظہور میں آیا چنانچہ بہت سے ہندوؤں نے بھی اس کی تصدیق کی یہاں تک کہ ہندوؤں کی عورتیں تک بھی گواہ ہیںکیونکہ یہ پیشگوئی بہت کثرت کے ساتھ مشتہر ہوئی تھی اور خود لیکھرام جہاں جاتا تھا اس پیشگوئی کا تذکرہ کرتا تھا بلکہ خود اس نے بھی میری نسبت ایک پیشگوئی کی تھی کہ تین سال کے اندر ہیضہ سے مَر جائے گا مگر اب میں تم سے پوچھتا ہوں کہ وہ لیکھرام کہاں ہے؟ حالانکہ میں تو خدا کے فضل سے تین سال چھوڑ اب تک زندہ ہوں اورموجود ہوں باوجودیکہ وہ ایک قوی ہیکل تندرست نوجوان تھا اور میں ہمیشہ بیمار رہنے والا، عمر میں اس سے بہت بڑا پھر یہ اگر خدا تعالیٰ کی تائید نہ تھی تو کیا تھا؟ ہاں بعض آدمی ایسے بھی ہوتے ہیںجن کی فطرت میں کج روی ہوتی ہے وہ سیدھی بات کو بھی نہیں سمجھ سکتے جیسا کہ آج عدالت میں سلطان محمد کے معاملہ کو پیش کیا گیا کہ وہ زندہ ہے۔میں کیا کروں کہاں سے ایسے الفاظ لاؤں اور کون سا طریق اختیار کروں جو ان کو سمجھا سکوں۔یہ لوگ نہ میرے پاس آتے ہیں نہ میری باتوں کو سنتے ہیں اور نہ ان کو خدا تعالیٰ کے قوانین پر اطلاع ہے اور نہ علم ہے۔وہ نہیں دیکھتے کہ چار شخصوں کے متعلق پیشگوئیاں تھیں جن میں سے تین مرگئے اور اب صرف ایک باقی ہے اور وہ بھی پیشگوئی ہی کے موافق اب تک زندہ ہے۔اس پیشگوئی کے غلط ہونے کا اعتراض اس وقت ہوسکتا ہے جب سلطان محمد سے پہلے میں مَر جاؤں یا وہ عورت مَرجاوے لیکن جب کہ خدا تعالیٰ نے اسی طرح پر مقدر کیا ہے کہ وہ عورت بیوہ ہو کر میرے نکاح میں آئے اور یہ کبھی نہیں ٹلے گا کیونکہ خدا کی باتیں پوری ہو کر رہتی ہیںپھر کیوں یہ لوگ صبر سے انتظار نہیں