ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 194

متعلق خدا تعالیٰ سے خبر پاکر کچھ بولتے ہیں تو لوگ ان کی ان باتوں پر تعجب کرتے ہیں۔سعادت مند اور رشید لوگ تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ان کی طرف رجوع کرتے ہیں مگر متکبر ضدی انکار کرتے اور اس کی باتوں کو ٹھٹھے اور ہنسی میں اڑاتے ہیں۔پس جب کہ یہ خدا تعالیٰ کا ایک قانون ہے جس کو ہم انبیاء اور مرسلین کی زندگی میں جاری پاتے ہیں تو ہمارے لئے یہ امر کبھی بھی ناخوش یا رنج دلانے والا نہیں ہوسکتا۔مجھ پر اگر ہنسی یا ٹھٹھا کیا جاتاہے یا کیا جاوے تو مجھے اس کی پروا نہیں اس لئے کہ خدا تعالیٰ کا یہی قانون ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ جو خدا کی طرف سے آتے ہیں دنیا کے لوگ جو تاریکی میں پھنسے ہوئے ہوتے ہیں ایسے ہی سلوک کرتے ہیں۔پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہ امر مشکل ہے کہ دنیا کا ایک ہی مذہب ہوجاوے کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہ بھی اپنا ایک قانون مقرر فرما دیا ہے کہ قیامت تک دنیا میں تفرقہ ضرور رہے گا۔چنانچہ قرآن شریف میں یہ امر بڑی صراحت کے ساتھ موجود ہے۔قرآن کریم سے بڑھ کر اور کوئی تعلیم کامل کیا ہوگی۔اس میں سب سے بڑھ کر آیات اور برکات رکھے ہوئے ہیں جو ہرزمانہ میں تازہ اور زندہ ہیں پھر اگر یہ قانون الٰہی نہ ہوتا تو چاہیے تھا کہ دنیا کی کل قومیں اس کو قبول کرلیتیں مگر خاص زمانہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی دوسرا فرقہ موجود تھا۔جیسا نبی کامل تھا ویسی ہی کتاب کامل تھی لیکن ابوجہل اور ابولہب وغیرہ نے کچھ فائدہ نہ اٹھایا وہ یہی کہتے رہے اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ يُّرَادُ(صٓ: ۷) میاں یہ تو دوکانداری ہے اور خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہےيٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۠ (یٰسٓ : ۳۱ ) اللہ تعالیٰ نے جو اس میں مَا کے ساتھ حصر کیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو سچا ہے اس کے ساتھ ہنسی اور ٹھٹھا ضرور کیا جاتاہے اگر یہ نہ کیا جائے تو خدا کا کلام صادق نہیں ٹھہرتا۔صادق کی یہ بھی ایک نشانی ٹھہری کہ دنیا کے سطحی خیال کے لوگ ان سے ہنسی ٹھٹھا کریں۔جیسا آدمؑ کے ساتھ کیا گیا۔نوح کے ساتھ کیا گیا۔موسیٰ اور مسیح کے ساتھ کیا گیا۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا۔ایسا ہی مجھ سے بھی کیا جانا ضروری تھا۔تو میری غرض اس بیان سے یہ تھی کہ میرے دعویٰ کو بھی