ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 193

ہے اور یہ بہت ہی اچھا ہوا کہ عدالت کے کاغذات میں درج ہوگئی۔شام کو حسب معمول سیر کو تشریف لے گئے۔راستہ میں ڈاکٹر فیض قادر صاحب نے عرض کیا کہ حضور! مہدی حسن تحصیل دار اور ان کے چند دوست چاہتے ہیںکہ آپ سے کچھ دریافت کریں اگر حضور اجازت دیں تو ان کو شام کو لے آئیں۔فرمایا۔ہاں بے شک ان کو بلا لو۔۱ بعد نماز مغرب وہ لوگ آپہنچے حضرت اقدس نے اس سے پہلے کہ اپنے دعویٰ کے متعلق کوئی کلام کریں فرمایا۔دو دن سے مجھے بہت تکلیف ہے پیچش کی وجہ سے۔اگرچہ میں اس قابل نہ تھا کہ کوئی گفتگو کر سکوں مگر زندگی کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ آپ کو اپنے شبہات دور کرنے میں مدد دوںاور وہ بات آپ تک پہنچا دوں جو میں لے کر آیا ہوں۔اصل میں بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے کام دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو وہ جو ہر روز لوگوں کی نظر میں ہوتے ہیں اور جن کو وہ دیکھتے ہیں اور دوسری ایک اور قسم بھی خدا تعالیٰ کے کاموں کی ہے جو کبھی کبھی ظاہر ہوتی ہے۔چونکہ وہ کبھی کبھی ہوتے ہیں اس لئے لوگوں کی نظروں میں عجیب ہوتے ہیں اور ان کا سمجھنا ان کے لئے مشکل نظر آتا ہے مگر سمجھ دار آدمی تعصّب سے خالی ہو کر ان پر غور کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ بھی ان کے لئے ایک راہ پیدا کر دیتا ہے اور وہ ان کو سمجھ لیتے ہیں اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں مگر نا اہل ضدّی اور متعصّب ان پر توجہ نہیں کرتے اور خدا تعالیٰ کے خوف کو مدّ نظر رکھ کر ان پر فکر کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے ان عجیب در عجیب کاموں سے سب سے بڑا کام اس کے نبیوں، رسولوں اور ماموروں کا آنا ہے۔یہ لوگ اسی زمین پر چلتے پھرتے ہیں اور عام آدمیوں کی طرح بشری حوائج اور کمزوریوںسے مستثنیٰ نہیں ہوتے۔کوئی اوپری اور انوکھی بات ان میں ایک خاص زمانہ تک پائی نہیں جاتی اس لئے جب وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم خدا کی طرف سے آئے ہیں اور خدا تعالیٰ ہم سے کلام کرتا ہے یا وہ واقعات آئندہ کے متعلق ۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۲۱ مورخہ ۱۰؍ اگست ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۴ ، ۱۵