ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 191

دیا ہے۔اور’’ گل شگفت ‘‘وغیرہ کتابیں اس نے لکھی ہیں۔میں نے جو کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ لکھی ہے اس میں چھوٹی مسجد کا ذکر ہے اس لئے حاشیہ در حاشیہ نمبر ۴ میں اسی مسجد کا ذکر ہے۔یہ کتاب ۱۸۸۰ء میں لکھی تھی ’’شحنہء حق‘‘ بھی میری کتاب ہے۔آریوں کے خلاف ہے۔’’ست بچن‘‘ اور ’’آریہ دھر م‘‘ میری تصنیف ہے۔یہ اشتہار مورخہ دہم جولائی ۱۸۸۸ ء میرا ہی ہے جو مرز انظام الدین کے خلاف ہے۔یہ اشتہار ۴؍ مئی ۱۸۹۸ء ’’امہات المؤمنین‘‘کے متعلق میں نے گورنمنٹ میں بھیجا تھا اور شائع کیا تھا۔مکرر سوال مدعا علیہ پر کہا۔کبھی سیر کو جاتا ہوں اور کبھی نہیں جاتا۔عموماً صبح کے وقت جاتا ہوں۔شام کو کبھی شاذو نادر ہی جاتا ہوں۔میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے۔کبھی کبھی وہ میرے ساتھ ہوتی ہے کیونکہ طبّی اصول کے مطابق اس کے لئے چہل قدمی مفید ہے۔ان کے ساتھ چند خادم عورتیں بھی ہوتی ہیںاور پر دہ کا پورا التزام ہوتا ہے۔خادم عورتوں سے مراد خدمت گار عورتیں ہیں۔پندرہ سولہ عورتیں ہیں چند فارغ خدمت گاروں کو ساتھ لے لیتی ہیں۔یہ بات عام نہیں ہے بلکہ علاج کے طور پر ہے۔برس میں دو چار مرتبہ ایسا اتفاق ہوتا ہے۔کبھی کوئی اور ضعیفہ عورتیں بھی ساتھ چلی جاتی ہیں تو ہم مانع نہیں ہوتے۔ہم باغ میں عورات کو نہیں لے جاتے جہاں حلوائیوں کے لڑکوں کو حکم دیں کہ وہ مٹھائیاں لے جاویں۔ہم باغ تک جاتے ہیں اور پھر واپس آجاتے ہیں۔احمد بیگ کی دختر کی نسبت جو پیشگوئی ہے وہ اشتہار میں درج ہے اور ایک مشہور امر ہے۔وہ مرزا امام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے۔جو خط بنام مرزا احمد بیگ کلمہ فضل رحمانی میں ہے وہ میرا ہے اور سچ ہے۔وہ عورت میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا جیسا کہ پیشگوئی میں درج ہے۔وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی جیسا کہ پیشگوئی میں تھا۔میں سچ کہتا ہوں کہ اسی عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہیں ہنسی کی گئی ہے، ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑے گا اور سب کے ندامت سے سر نیچے ہوں گے۔پیشگوئی کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے اور یہی پیشگوئی تھی کہ وہ دوسرے کے ساتھ بیاہی جاوے گی۔اس لڑکی کے باپ