ملفوظات (جلد 2) — Page 190
کے راستہ سے آوے گا۔اس دیوار بننے سے پیشتر مہمان دونوں وقت میرے ساتھ کھانا کھاتے تھے اور نمازیں پڑھتے تھے اور تعلیمی باتیں سنتے تھے جن کے لئے میں خدا کی طرف سے آیا ہوں۔اب اگر اوپر آتے ہیں تو بڑی تکلیف سے چکر کھا کر آتے ہیں اور صبح اور عشا کی نماز میں ضعیف اور کمزور آدمی میرے ساتھ شریک نہیں ہوسکتے۔ان مہمانوں کی غرض جو میرے پاس آتے ہیں دین سیکھنے کی ہوتی ہے لیکن جب اس دیوار کی وجہ سے ان کو تکلیف پہنچتی ہے تو مجھے ان تمام تکالیف کا صدمہ ہوتا ہے۔جو کام میں کرنا چاہتا ہوں اس میں دقت پیدا ہوتی ہے۔میرے پاس الفاظ نہیں ہیں جن میں مَیں ان تکالیف کو بیان کر سکوں۔مہمان کہیں ہوتے ہیں اور میں کہیں۔وہ اس بات سے محروم رہتے ہیں جس کے لئے آتے ہیں اور میں اپنا کام نہیں کر سکتا جس کے لیے میں بھیجا گیا ہوں۔برسات میں تو راستہ گزرنے کے قابل ہی نہیں ہوتا۔مطبع کے پروف اور کاپیاں میں خود ہی دیکھتا ہوں۔کار پردازوں کو دن میں چار پانچ مرتبہ میرے پاس آنا پڑتا ہے۔اس دیوار کی وجہ سے پابندی نہیں ہوسکتی جس سے حرج ہوتا ہے۔کام میں توقف ہوتا ہے۔میرے لنگرخانہ کا خرچ کبھی ہزار، کبھی پندرہ سو اور کبھی دو ہزار روپے ماہانہ ہوتا ہے اورمطبع کا مستقل خرچ اڑھائی سو روپیہ ماہوار ہے۔قبل از تعمیر دیوار میرے باہر جانے کا راستہ اسی طرف سے تھا جہاں دیوار ہے۔میں زنانخانہ سے عموماً نہیں گزرتا ہوں کیونکہ وہاں مہمان عورتیں موجود ہوتی ہیں۔اس لحاظ سے کہ ممکن ہے عورتیں کسی حال میں ہوں ہمیشہ اوپر سے ہی آتا ہوں۔مدعا علیہم کو میرے ساتھ قریباً انیس، بیس سال سے عداوت ہے۔عداوت کی ایک وجہ یہ ہے کہ میرزا امام الدین کی ہمشیرہ میرزا اعظم بیگ کے لڑکے مرزا اکبر بیگ سے بیاہی گئی تھی اور مرزا اعظم بیگ قادیان کی اراضی کا خریدار ہوا تھا اس نے ان لوگوں کے حصے خریدے جو بے دخل تھے۔ایک وجہ عداوت کی یہ بھی ہے جو بڑی وجہ ہے کہ مرزا امام الدین خدا اور رسول کے خلاف کتابیں لکھتا ہے چنانچہ’’ دید حق‘‘ ’’ قصہ ہر دو کافر‘‘ جس میں مجھ کو اور محمد حسین بٹالوی دونوں کو کافر قرار