ملفوظات (جلد 2) — Page 192
کے مرنے اور خاوند کے مرنے کی پیشگوئی شرطی تھی اور شرط توبہ اور رجوع الی اللہ کی تھی۔لڑکی کے باپ نے توبہ نہ کی اس لئے وہ بیاہ کے بعد چند مہینوں کے اندر مر گیا اور پیشگوئی کی دوسری جز پوری ہوگئی۔اس کا خوف اس کے خاندان پر پڑا اور خصوصاً شوہر پر پڑا جو پیشگوئی کا ایک جز تھا۔انہوں نے توبہ کی چنانچہ اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے خط بھی آئے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کو مہلت دی۔عورت اب تک زندہ ہے۔میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔امید کیسی یقین کامل ہے یہ خدا کی باتیں ہیں، ٹلتی نہیں، ہو کر رہیں گی۔اشخاص ذیل کی نسبت موت کا الہام تھا عبد اللہ آتھم ، لیکھرام ، احمدبیگ ، سلطان محمد۔ان میں سے اب صرف سلطان محمد زندہ ہے۔عبداللہ آتھم اگرچہ ظاہری نگاہ میں میعاد کے اندر نہیں مرا مگر اس کی نسبت شرطیہ الہام تھا چونکہ اس نے ظاہری میعاد کے اندرتوبہ کر لی۔اس کو مہلت دی گئی اس کے بعد اس نے اخفاءِ حق کیا پھر میرے اشتہار کے بعد وہ بہت جلد مر گیا۔اب آتھم کہاں ہے؟ اسے لاؤ۔احمد بیگ اپنی میعاد کے اندر مرگیا۔لیکھرام بھی میعاد کے اندر مرگیا۔میں نے مسٹر ڈوئی کے سامنے لکھا دیا تھا کہ آئندہ کسی کی نسبت موت کا الہام شائع نہیں کروں گا جب تک کہ وہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے اجازت نہ لے لیوے۔دو آریہ جن کا نام میرے اشتہار میں متعلقہ پیشگوئی مرزا نظام الدین درج ہے ان کا نام یاد نہیں ہے۔ایک شاید بشن داس ہے دوسرے کا نام شاید بھارا مل ہے۔بعض علماء نے میری نسبت کفر کا فتویٰ دیا ہے اور بہتوں نے مجھے قبول کیا ہے اور ان میں سے بھی جنہوںنے کفر کا فتویٰ دیا تھا بعض توبہ کر کے میرے پاس آتے جاتے ہیں‘‘ تَمَّ کَلَامُہٗ۔غرض اس طرح پر حضرت اقدس کا بیان ختم ہوا اور حضرت اقدس علیہ السلام ایک مجمع کثیر کے ساتھ عدالت کے کمرہ سے باہر آئے۔آپ اس قدر خوش تھے جس کی کوئی حدوپایاں نہیں۔فرماتے تھے کہ معلوم ہوتا ہے کہ اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا زمانہ آگیا۔اگرہم ہزار روپیہ بھی خرچ کرتے اور آرزو رکھتے کہ یہ عدالت کے کاغذات میں درج ہوجاوے اور اس طرح پر تین ڈپٹی گواہ ہوجاویں تو کبھی بھی نہ ہوتا۔یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور اس کی باتیں عجیب ہوتی ہیں۔اب عدالت کے کاغذات سے کون اس کو مٹاسکے گا۔جب یہ پیشگوئی پوری ہوگی کیا ان ڈپٹیوں پر اس کا اثر نہ پڑے گا۔ضرور ہی پڑے گا۔جیسے لیکھرام کی پیشگوئی کی بہت شہرت ہوئی تھی اسی طرح اس کی شہرت ہوگئی