ملفوظات (جلد 2) — Page 168
چاہیے کہ اپنی عمر کا حساب کرتے رہیں۔ان دوستوں کو اور رشتہ داروں کو یاد کریں جو ا نہیں میں سے نکل کر چلے گئے۔لوگوں کی صحت کے ایام یونہی غفلت میں گزر جاتے ہیں۔ایسی کوشش کرنی چاہیے کہ خوفِ الٰہی دل پر غالب رہے۔جب تک انسان طولِ اَمل کو چھوڑ کر اپنے پر موت وارد نہ کر لے تب تک اس سے غفلت دور نہیں ہوتی۔چاہیے کہ انسان دعا کرتا رہے۔یہاں تک کہ خدا اپنے فضل سے نور نازل کر دے۔جو یندہ یا بندہ۔وفات مسیح پر ایک لطیف استدلال فرمایا۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مسیح آوے اس کو میرا سلام کہنا۔اس حدیث کے مطلب میں غور کرنا چاہیے۔اگر مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود تھے تو خود حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ملاقات معراج میں کی تھی اور نیز حضرت جبرائیلؑ ہر روز وہاں سے آتے تھے۔کیوں نہ ان کے ذریعہ سے اپنا سلام پہنچایا اور پھر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی بعد از وفات آسمان پر ہی گئے تھے اور وہاں ہی حضرت مسیحؑ بھی ہیں اور حضرت مسیحؑ کو تو خود رسول کریمؐ کے پاس سے ہو کر زمین پر اترنا تھا۔تو پھر اس کے کیا معنے ہوئے کہ زمین والے ان کو آنحضرتؐکا سلام پہنچائیں۔کیا اس صورت میں حضرت عیسٰیؑ ان کو یہ جواب نہ دیں گے کہ میں تو خود ان کے پاس سے آتا ہوں تو تم یہ سلام کیسا دیتے ہو؟یہ تو مثال ہوئی کہ گھر سے میں آؤں اور خبریں تم دو۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت رسول کریم اور آپ کے اصحاب کا یہی عقیدہ اور مذہب تھا کہ حضرت مسیحؑ فوت ہو گئے ہیں اور دنیا میں واپس نہیں آسکتے اور آنے والا مسیح اسی امت میں سے بروزی رنگ میں ہو گا۔سچی لذّت اللہ تعالیٰ کی محبت میں ہے سوال ہوا کہ فواحشات کی طرف لوگ جلد جھک جاتے ہیں اور ان سے لذّت اٹھاتے ہیں جن سے خیال ہو سکتا ہے کہ ان میں بھی ایک تاثیر ہے۔فرمایا۔بعض اشیاء میں نہاں در نہاں ایک ظل اصلی شے کا آجاتا ہے۔وہ شے طفیلی طور پر کچھ حاصل کرلیتی ہے مثلاً راگ اور خوش الحانی لیکن دراصل سچی لذّت اللہ تعالیٰ کی محبت کے سوا اور کسی شے میں