ملفوظات (جلد 2) — Page 169
نہیں ہے اورا س کا ثبوت یہ ہے کہ دوسری چیزوں سے محبت کرنے والے آخر اپنی حالت سے توبہ کرتے اور گھبراتے اور اضطراب دکھاتے ہیں مثلاً ہر ایک فاسق اور بد کار سزا کے وقت اور پھانسی کے وقت اپنے فعل سے پشیمانی ظاہر کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کو ایسی استقامت عطا ہوتی ہے کہ وہ ہزار ایذائیں دیئے جائیں،مارے جائیں،قتل کیے جائیں وہ ذرا جنبش نہیں کھاتے۔اگر وہ شے جو انہوں نے حاصل کی ہے اصل نہ ہوتی اور فطرت انسانی کے ٹھیک مناسب نہ ہوتی تو کروڑوں موتوں کے سامنے ایسے استقلال کے ساتھ وہ اپنی بات پر قائم نہ رہ سکتے۔یہ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ فطرت انسانی کے نہایت ہی قریب یہی بات ہے جو ان لوگوں نے اختیار کی ہے اور کم از کم بھی ایک لاکھ چوبیس ہزار آدمیوں نے اپنے سوانح سے اس بات کی صداقت پر مہر لگا دی ہے۔دنیا کے قید خانہ ہونے کی حقیقت فرمایا۔آئندہ زندگی میں مومن کے واسطے بڑی تجلّی کے ساتھ ایک بہشت ہے لیکن اس دنیا میں بھی اس کو ایک مخفی جنت ملتی ہے۔یہ جو کہا گیا ہے کہ دنیا مومن کے لئے سِـجْنٌ یعنی قید خانہ ہے اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ ابتدائی حالت میں جبکہ ایک انسان اپنے آپ کو شریعت کی حدود کے اندر ڈال دیتا ہے اور وہ اچھی طرح اس کا عادی نہیں ہوتا تو وہ وقت اس کے لئے تکلیف کا ہوتا ہے کیونکہ وہ لا مذہبی کی بے قیدی سے نکل کر نفس کے مخالف اپنے آپ کو احکام الٰہی کی قید میں ڈال دیتا ہے مگر رفتہ رفتہ وہ اس سے ایسا انس پکڑتا ہے کہ وہی مقام اس کے لئے بہشت ہو جاتا ہے۔اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو قید خانہ میں کسی پر عاشق ہو گیا ہو۔پس کیاتم خیال کرتے ہو کہ وہ قید خانہ سے نکلنا پسند کرے گا۔اپنی زبان میں دعا سوال ہوا کہ آیا نماز میں اپنی زبان میں دعا مانگنا جائز ہے۔حضرت اقدس نے فرمایاکہ سب زبانیں خدا نے بنائی ہیں۔چاہیے کہ اپنی زبان میں جس کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے نماز کے اندر دعا ئیں مانگے کیونکہ اس کا اثر دل پر پڑتا ہے تا کہ عاجزی اور خشوع پیدا ہو۔کلامِ الٰہی کو ضرور عربی میں پڑھو اور اس کے معنی یاد رکھو اور دعا بےشک اپنی زبان میں مانگو۔جو لوگ نماز کو جلدی جلدی پڑھتے ہیں اور پیچھے لمبی دعا ئیں کرتے ہیں