ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 167

کہ جب وہ ان تمام دروازوں کو بند کر دیتا ہے جو شیطان کے اندر آنے کے ہیں تب اس میں سوائے خدا کے اور کچھ نہیں آتا۔جب تم سنو کہ کسی کو الہام ہوتا ہے تو پہلے اس کے الہامات کی طرف مت جاؤ۔الہام کچھ شے نہیں جب تک کہ انسان اپنے تئیں شیطان کے دخل سے پاک نہ کر لے اور بے جا تعصبوں اور کینوںاور حسدوں سے اور ہر ایک خدا کو ناراض کرنے والی بات سے اپنے آپ کو صاف نہ کر لے۔دیکھو! اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک حوض ہے اور اس میں بہت سی نالیاں پانی کی گرتی ہیں۔پھر ا ن نالیوں میں سے ایک کا پانی گندہ ہے تو کیا وہ سارے پانی کو گندہ نہ کر دے گا۔یہی راز ہے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہا گیاکہ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى ( النجم :۴ ، ۵ ) ہاں انسان کو ان کمزوریوں کے دور کرنے کے واسطے استغفار بہت پڑھنا چاہیے۔گناہ کے عذاب سے بچنے کے واسطے استغفار ایسا ہے جیسا کہ ایک قیدی جرمانہ دے کر اپنے تئیں قید سے آزاد کر الیتا ہے مگر استغفار سے خدا اس کو نیچے دبا دیتا ہے۔۱ ۱۷؍مئی ۱۹۰۱ء بیعت لینے کا حکم سوال ہوا۔کیا آپ دوسرے صوفیاء اور مشائخ کی طرح عام طور پر بیعت لیتے ہیں یا بیعت لینے کے لئے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہے۔فرمایا۔ہم تو امر الٰہی سے بیعت کرتے ہیں جیسا کہ ہم اشتہار میں بھی یہ الہام لکھ چکے ہیں کہ اَلَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ الـخ گناہ سے بچنے کا طریق فرمایا۔جذبات اور گناہ سے چھوٹ جانے کے لئے اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا کرنا چاہیے۔جب سب سے زیادہ خدا کی عظمت اور جبروت دل میں بیٹھ جائے تو گناہ دور ہو جاتے ہیں۔ایک ڈاکٹر کے خوف دلانے سے بسا اوقات لوگوںکے دل پر ایسا اثر ہوتا ہے کہ وہ مَر جاتے ہیں تو پھر خوف الٰہی کا اثر کیونکر نہ ہو۔چاہیے ۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۸ مورخہ ۱۷ ؍ مئی ۹۰۱ ء صفحہ ۱۲ ، ۱۳