ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 7

مجھے۔۱اس لفظ سے رقّت ہوئی میں نے عرض کیا کہ آپ وہ ہیںجن کی نسبت خدا تعالیٰ کہہ چکا ہے اَنْتَ الشَّیْخُ الْمَسِیْحُ الَّذِیْ لَا یُضَاعُ وَقْتُہٗ۔میں امید کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کو آپ کے درجات کی ترقی بہت ہی منظور ہے کہ ایک طرف تو آپ کے سپرد اس کثرت سے کام کر دیئے ہیں کہ ان کے تصور سے قوی سے قوی زہرہ آدمی کی پیٹھ ٹوٹ جاتی ہے اور اُس پر اس قدر بیماریوں کا ہجوم۔مسکرا کر فرمایا۔ہاں یہ تو ہمیں یقین ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے بہت سے مصالح ملحوظ ہیں۔احمد بیگ کے متعلق پیشگو ئی احمد بیگ والی پیشگوئی پر اعتراض کے متعلق فرمایا۔اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے خوف سے غور کرے کہ چار شخصوں کی موت کی نسبت ہماری پیش گوئی تھی۔جن میں سے تین ہلاک ہو چکے اور ایک(داماد)باقی ہے تو اس کی روح کانپ جائے گی کہ کس دلیری سے اور کیوں وہ اعتراض کر سکتا ہے۔اسے سمجھ لینا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے مصالح اس میں ہیں۔خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ راستبازوں کے مخالفوں کی عمریں بھی ان کے کارخانہ کی رونق کے لئے لمبی کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ قادر تھا کہ ابو جہل اور اس کے امثال پر مکہ معظمہ میں یکجا اور ناگہاں بجلی پڑ جاتی اور بہت بڑی ایذا پہنچانے سے قبل ان کا استیصال ہو جاتا مگر ان کا تاروپود درہم برہم نہ ہواجب تک بدر کا یوم نہ آیا۔اگر ایسی ایسی کارروائیاں جلد جلد پوری ہو جائیںتو نبی بہت جلد ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے اور وہ گرمیٔ ہنگامہ کیوں کر رنگ آرائے چہرۂ ہستی ہو، جس کے قیام کے بغیر طرح طرح کے علوم و حکمتیں بروئے کا ر نہیں آسکتیں۔خدا تعالیٰ صادق کو نہیں اٹھاتا جب تک اس کا صادق ہونا آشکار نہ کر دے اور ان الزاموں سے اس کی تطہیر نہ کر دے جو ناعاقبت اندیش اس پر لگاتے ہیں۔مہدی اور دجّال کے متعلق احادیث بعد نماز عشاء فرمایا۔میں آج کنز العمال کو دیکھ رہا تھا۔مہدی اور دجّال کی نسبت ۸۵حدیثیں اس میں جمع کی گئی ہیں۔سب حدیثوں میں یہی ہے کہ وہ آتے ہی یوں ۱ (مراد۔حضرت مولانا عبد الکریم صاحبؓ۔مرتّب)