ملفوظات (جلد 2) — Page 6
وآن کلام اجلٰی وروشن مے باشد۔نظیرش بیان فرمودند کہ مثلاً حافظ صاحب نا بینا کہ پیش مانشستہ اند۔درسماعِ کلامِ ما ہرگز غلطی نمے خورندونمے دانند کہ آواز مسموع کلام غیرِ ما باشد۔اگرچہ از چشم ظاہر مارا نمے بینند۔دیگر رؤیا ومنام ست۔کہ آن کلام رنگین ولطیف وکنایہ داردوذوی الو جوہ است۔چوں دیدن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سِوارَیْن در دستِ مبارکِ خویش، یا معائنہ فرمودن یکے زوجہ مطہرہ خود را اَطْوَلُ یَدَیْنِ، ودیدن بقرہ وغیرہ ایں چنیں کلام الٰہی تعبیر طلب ست۔سوم کشف است وآن تمثّل است خواہ بصورتِ جبرائیل باشدیا فرشتہ یا دیگر اشیاء۔پس آیت شریفہ خواندند اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا (الشورٰی :۵۲)۔ارشاد شد کہ سوائے امور ثلاثہ مذکورہ کلام الٰہی را طریقے نیست۔۱ ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۰۰ء بیماری میں الٰہی مصالح عصر کے وقت فرمایا۔طبیعت بہت علیل ہے دعا کرنی چاہیے۔(بقیہ حاشیہ )اور کلام اجلٰی اور روشن ہوتا ہے۔اس کی مثال بیان فرمائی کہ مثلاً حافظ صاحب نابینا کہ ہمارے قریب بیٹھے ہیں۔ہمارے کلام کی سماعت میں ہرگز غلطی نہیں کھاتے اور نہیں جانتے کہ سنا جانے والا کلام ہمارا نہیں ہوگا۔اگرچہ چشم ظاہر سے ہم کو نہیں دیکھ رہے ہیں۔دوسری قسم رؤیا اور خواب ہے کہ وہ کلام رنگین و لطیف اور کنایہ رکھتا ہے اور ذو الوجوہ ہوتا ہے۔جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا (خواب میں ) اپنے دستِ مبارک میں دو کنگن دیکھنا۔یا معائنہ فرمانا اپنی ایک زوجہ مطہرہ کو اَطْوَلُ یَدَیْن یا گائے کو دیکھنا وغیرہ اس طرح کا کلامِ الٰہی تعبیر طلب ہوتا ہے۔تیسری قسم کشف ہے کہ وہ تمثّل ہے خواہ حضرت جبرائیل کی شکل میں ہو یا فرشتہ یا دوسری اشیاء کی صورت میں۔پس آپ نے آیت شریف پڑھی اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا (الشورٰی :۵۲) ارشاد فرمایا کہ کلام الٰہی کی ان تین مذکورہ امور کے علاوہ اور کوئی طریق نہیں ہے۔۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴؍ مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ ۶