ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 8

خونریزی کرے گا اور یوں خلقِ خدا کے خون سے روئے زمین کو رنگین کرے گا۔خدا جانے ان لوگوں کو جو اِن احادیث کے وضّاع تھے۔سفّاکی کی کس قدر پیاس اور خلق خدا کی جان لینے کی کتنی بھوک تھی اور اس وقت عقلیں کس قدر موٹی اور سطحی ہو گئیں تھیں۔یہ بات ان کی سمجھ ہی میں نہ آئی کہ اصول تبلیغ اور ماموریت کے قطعاًخلاف ہے کہ کوئی مامور آتے ہی بلا اتمام حجت کے تیغ زنی شروع کر دے۔تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف تو آخری زمانہ کو حضرت خیر الانام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے اتنا دُور قرار دیا ہے۔اور ظاہر ہے کہ جتنا بُعد زمانہ نبوت سے ہو گا۔اتنی ہی غفلت اور کسل اور اعراض عَنِ اللہ کا مرض شدید ہو گا۔بایں ہمہ آخری زمانہ کا مصلح اور مامور ایسا شخص قرار دیا ہے جو آتے ہی تلوار سے کام لے اور اتمامِ حجت کا ایک لفظ بھی منہ پر نہ لاوے۔وہ مصلح کیا ہوا، وہ خونریز مفسد ہوا۔افسوس آتا ہے کہ اس قدر تنا قضات کا مجموعہ وہ حدیثیں ہیں کہ اس سے زیادہ ہفوات اور لغویات میں بھی تناقض ممکن نہیں مگر ان لوگوں کی دانشیں ان کی بیہودگی کی تہ تک نہ جا سکیں۔فرمایا۔میں ان حدیثوں کو پڑھ کر کانپ اٹھا اور دل میں گزرا اور بڑے درد کے ساتھ گزرا کہ اگر اب خدا تعالیٰ خبر نہ لیتا اور یہ سلسلہ قائم نہ کرتا۔جس نے اصل حقیقت سے خبر دینے کا ذمہ اٹھایا ہے تو یہ مجموعہ حدیثوں کا اور تھوڑے عرصہ کے بعد بے شمار مخلوق کو مرتد کر دیتا۔ان حدیثوں نے تو اسلام کی بیخ کنی اور خطرناک ارتداد کی بنیاد رکھ دی ہوئی ہے۔جبکہ حدیثیں یونہی نا مراد رہتیں اور ان کی بے بنیاد پیش گوئیاں جو محض دروغ بے فروغ اور باطل افسانے ہیں اور کچھ مدت کے بعد آنے والی نسلوں کے سامنے اسی طرح نامراد پیش ہوتیں۔توصاف شک پڑ جاتا کہ اسلام بھی اور جھوٹے مہا بھارتی مذہبوں کی طرح نرا کتھوں پر مبنی اور بے سرو پا مذہب ہے۔اورآئندہ نسلیں سخت ہنسی اور استہزا سے اس بات کے کہنے کا بڑی دلیری سے موقع پاتیں کہ دجّال کو خدا بنانے والا اور خدا کی صفات کاملہ مستجمعہ سے پورا حصہ دینے والا مذہب بھی کبھی مذہب حق اور مذہب توحید کہلانے کا استحقاق رکھ سکتا ہے۔۱ ۱ الحکم جلد ۴ نمبر ۳۷ مورخہ ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۰۰ء صفحہ ۱ تا ۳