ملفوظات (جلد 2) — Page 98
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۸ جلد دوم اذن سے کرتا تھا تو ہم کہتے ہیں کہ وہ اذن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں نہ دیا گیا۔ جو خدا کے ولی کے ساتھ دشمنی کرتا ہے خدا اس کے ساتھ جنگ کرتا ہے۔ جس کے ساتھ خدا جنگ کرے اس کا ایمان کہاں رہا۔ ۲۳ فروری ۱۹۰۱ء حضرت اقدس کو الہام ہوا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ ۔ تفسير اعجاز لمسیح کے متعلق یہ کرتھا کہ مخالفین میں سے کسی کو تفسیر اعجاز مسیح کی اعجازی شان سے حضرت اقدس نے فرمایا۔ خدا نے یہ طاقت نہیں دی کہ اس کا مقابلہ کر سکے۔ اس پر قرآن شریف کے ایک معجزہ ہونے کے متعلق دو مذہب ہیں ۔ ایک تو یہ کہ خدا تعالیٰ نے مخالفین سے صرف ہمت کر دیا یعنی اُن لوگوں کو توفیق نہ ہوئی کہ اس وقت مقابلہ میں کچھ کر کے دکھلاتے۔ اور دوسرا مذہب جو کہ صحیح اور سچا اور پیکامذہب ہے اور ہمارا بھی وہی مذہب ہے۔ وہ یہ ہے کہ مخالف خود اس بات میں عاجز تھے کہ مقابلہ کر سکتے۔ اصل میں ان کے علم اور عقل چھینے گئے تھے۔ قرآن شریف کا معجزہ ہماری تفسیر القرآن کے معاملہ سے خوب سمجھ میں آ سکتا ہے۔ ہزاروں مخالف موجود ہیں جو عالم فاضل کہلاتے ہیں ۔ کئی غیرت دلانے والے الفاظ بھی اشتہار میں لکھے گئے مگر کوئی ایسانہ کر سکا کہ اس نشان کا مقابلہ کرتا ۔ ہے الحکم جلد ۵ نمبر ۱۰ مورخه ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ء صفحه ۸ الحکم جلد ۵ نمبر ۸ مورخه ۱۳ مارچ ۱۹۰۱ء صفحه ۱۲