ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 98

اِذن سے کرتا تھا تو ہم کہتے ہیں کہ وہ اذن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں نہ دیا گیا۔جو خدا کے ولی کے ساتھ دشمنی کرتا ہے خدا اس کے ساتھ جنگ کرتا ہے۔جس کے ساتھ خداجنگ کرے اس کا ایمان کہاں رہا۔۱ ۲۳؍فروری ۱۹۰۱ء حضرت اقدسؑکو الہام ہوا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَھْزِئِیْنَ۔تفسیر اعجاز المسیح کی اعجازی شان تفسیر اعـجاز المسیح کے متعلق یہ ذکر تھا کہ مخالفین میں سے کسی کو خدا نے یہ طاقت نہیں دی کہ اس کا مقابلہ کر سکے۔اس پر حضرت اقدس ؑ نے فرمایا۔قرآن شریف کے ایک معجزہ ہونے کے متعلق دو مذہب ہیں۔ایک تو یہ کہ خدا تعالیٰ نے مخالفین سے صَرفِ ہمت کردیا یعنی اُن لوگوں کو توفیق نہ ہوئی کہ اس وقت مقابلہ میں کچھ کرکے دکھلاتے۔اور دوسرا مذہب جو کہ صحیح اور سچا اور پکا مذہب ہے اور ہمارا بھی وہی مذہب ہے۔وہ یہ ہے کہ مخالف خود اس بات میں عاجز تھے کہ مقابلہ کرسکتے۔اصل میں ان کے علم اور عقل چھینے گئے تھے۔قرآن شریف کا معجزہ ہماری تفسیر القرآن کے معاملہ سے خوب سمجھ میں آسکتا ہے۔ہزاروں مخالف موجود ہیں جو عالم فاضل کہلاتے ہیں۔کئی غیرت دلانے والے الفاظ بھی اشتہار میں لکھے گئے مگر کوئی ایسانہ کرسکا کہ اس نشان کا مقابلہ کرتا۔۲ ۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۰ مورخہ ۱۷ ؍ مارچ ۱۹۰۱ ء صفحہ ۸ ۲ الحکم جلد ۵ نمبر ۸ مورخہ ۳ ؍ مارچ ۱۹۰۱ ء صفحہ ۱۲