ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 97

ہوجائے گا۔انجام ایک ہی ہے۔پہلے تخالف ہوتاہے پھر اجنبیّت پھر عداوت پھرغلو اور آخر کار سلب ہوجاتا ہے۔اخیار میں خونی دشمنی کبھی نہیں ہوتی سوال ہوا کہ ابتدا میں بھی مسلمانوں کے درمیان آپس میں عداوت اور دشمنیاں ہوتی رہی ہیں اوراختلاف رائے بھی ہوتا رہا ہے مگر باوجود اس کے ہم کسی کوکافر نہیں کہہ سکتے۔حضرت اقدس ؑ نے فرمایا۔یہ تو شیعوں کا مذہب ہے کہ صحابہ ؓ کے درمیان آپس میں ایسی سخت دشمنی تھی، یہ غلط ہے۔اللہ تعالیٰ آپ اس کی تردید میں فرماتا ہے کہ نَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ (الـحجر:۴۸) برادریوں کے درمیان آپس میں دشمنیاں ہوا کرتی ہیں مگر شادی، مرگ کے وقت وہ سب ایک ہوجاتے ہیں۔اخیار میں خونی د شمنی کبھی نہیں ہوتی۔منعم علیہ کون ہیں سوا ل ہوا کہ جو لوگ آپ کو کافر نہیں کہتے مگر آپ کے مُرید بھی نہیں ہیں۔اُن کا کیا حال ؟ حضرت صاحب نے فرمایا۔وہ لوگ راہ ورسم اور تعلقات کس کے ساتھ رکھتے ہیں۔آخر ایک گروہ میں اُن کو ملناپڑے گا۔جس کے ساتھ کوئی اپنا تعلق رکھتا ہے اُسی میں سے وہ ہوتا ہے۔سوال ہوا کہ جو لوگ آپ کو نہیں مانتے وہ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے نیچے ہیں یا کہ نہیں؟ حضرت اقدس مسیح موعود ؑ نے فرمایا کہ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں تو مَیں اپنی جماعت کو بھی شامل نہیں کرسکتا جب تک کہ خدا کسی کو نہ کرے۔جو کلمہ گو سچے دل سے قرآن پر عمل کرنے کے لیے طیار ہو بشرطیکہ سمجھایا جاوے وہ اپنا اجر پائے گا۔جس قدر کوئی مانے گا اُسی قدر ثواب پائے گا۔جتنا انکار کرے گا اُتنی ہی تکلیف اُٹھائے گا۔میں قسماً کہتا ہوں کہ مجھے لوگوں کے ساتھ کوئی عداوت نہیں۔جو ہمیں کافر نہیں کہتے اُن کے دلوں کا خدا مالک ہے مگر حضرت مسیحؑ کا خالق اور حَیّ ماننا بھی تو ایک شِرک ہے۔اگر وہ کہیں کہ خدا کے