ملفوظات (جلد 2) — Page 96
ہے تو اُس کی نماز ہی فاسد ہے۔۱ ۲۰؍ فروری ۱۹۰۱ء استغفار ایک شخص نے قرض کے واسطے دعا کے لئے عرض کی۔فرمایا۔استغفار بہت پڑھا کرو۔عربی تفسیر کے لئے غیبی قوت تفسیرکے لکھنے کے متعلق فرمایا۔دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔اب تو ہم اس طرح جلدی جلدی لکھتے ہیں جیسے اُردو لکھی جاتی ہے بلکہ کئی دفعہ تو قلم برابر چلتا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ کیا لکھ رہے ہیں۔۲ غیروں کے پیچھے نماز کسی نے سوال کیا کہ جو لوگ آپؑ کے مُرید نہیں ہیں۔ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے آپؑنے اپنے مریدوں کو کیوں منع فرمایا ہے۔حضرت ؑ نے فرمایا۔جن لوگوں نے جلد بازی کے ساتھ بدظنی کرکے اس سلسلہ کو جو اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے ، ردّ کردیا ہے اور اس قدر نشانوں کی پروا نہیں کی اور اسلام پر جو مصائب ہیں اس سے لاپروا پڑے ہیں۔ان لوگوں نے تقویٰ سے کام نہیں لیا اور اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہےکہ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ(المائدۃ:۲۸) خداصرف متقی لوگوں کی نماز قبول کرتا ہے، اس واسطے کہا گیا ہے کہ ایسے آدمی کے پیچھے نماز نہ پڑھو جس کی نما زخود قبولیت کے درجہ تک پہنچنے والی نہیں۔مسیح موعودؑ کو نہ ماننے کا نتیجہ قدیم سے بزرگانِ دین کا یہی مذہب ہے کہ جو شخص حق کی مخالفت کرتا ہے رفتہ رفتہ اس کا سلب ِ ایمان ہوجاتا ہے۔جو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانے وہ کافر ہے مگرجو مہدی اور مسیح کو نہ مانے اس کا بھی سلبِ ایمان ۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۷ مورخہ ۲۴ ؍ فروری ۱۹۰۱ ء صفحہ ۹ ۲ الحکم جلد ۵ نمبر ۷ مورخہ ۲۴ ؍ فروری ۱۹۰۱ ء صفحہ ۱۰