ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 95

۱۶؍ فروری ۱۹۰۱ ء فاتحہ خلف الامام اس بات کا ذکر آیا کہ جوشخص جماعت کے اندر رُکوع میں آکر شامل ہو اس کی رکعت ہوتی ہے یا نہیں۔حضرت اقدس ؑنے دوسرے مولویوںکی رائے دریافت کی۔مختلف اسلامی فرقوں کے مذاہب اس امر کے متعلق بیان کیے گئے۔آخرحضرت ؑ نے فیصلہ دیا اور فرمایا۔ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ لَاصَلٰوۃَ اِلَّا بِفَاتِـحَۃِ الْکِتَابِ۔آدمی امام کے پیچھے ہو یا منفرد ہو ہرحالت میں اس کو چاہیے کہ سورۃ فاتحہ پڑھے مگر امام کو نہ چاہیے کہ جلدی جلدی سورۃ فاتحہ پڑھے بلکہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھے تاکہ مقتدی سُن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے یا ہر آیت کے بعد امام اتنا ٹھہر جائے کہ مقتدی بھی اس آیت کو پڑھ لے۔بہر حال مقتدی کو یہ موقع دیناچا ہیے کہ وہ سن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے۔سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے کیونکہ وہ اُمّ الکتاب ہے۔لیکن جو شخص باوجود اپنی کوشش کے جو وہ نماز میں ملنے کے لئے کرتاہے آخر رکوع میں ہی آکر ملا ہے اور اس سے پہلے نہیں مل سکا تو اس کی رکعت ہوگئی اگرچہ اس نے سورۃ فاتحہ اس میں نہیں پڑھی۔کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس نے رکوع کو پالیا اس کی رکعت ہوگئی۔مسائل دو طبقات کے ہوتے ہیں۔ایک جگہ تو حضرت رسول کریم نے فرمایا اور تاکید کی کہ نماز میں سورۃ فاتحہ ضرور پڑھیں۔وہ اُمّ الکتاب ہے اور اصل نماز وہی ہے مگر جو شخص باوجود اپنی کوشش کے اور اپنی طرف سے جلدی کرنے کے رکوع میں ہی آکر ملا ہے تو چونکہ دین کی بنا آسانی اور نرمی پر ہے اس واسطے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی رکعت ہوگئی۔وہ سورۃ فاتحہ کا منکر نہیں ہے بلکہ دیر میں پہنچنے کے سبب رخصت پر عمل کرتا ہے۔میرا دل خدا نے ایسابنایا ہے کہ ناجائز کام میں مجھے قبض ہوجاتی ہے اور میرا جی نہیںچاہتا کہ مَیں اُسے کروں اور یہ صاف ہے کہ جب نماز میں ایک آدمی نے تین حصوں کو پورا پالیا اور ایک حصہ میں بہ سبب کسی مجبوری کے دیر میں مل سکا ہے تو کیا حرج ہے۔انسان کو چاہیے کہ رُخصت پر عمل کرے۔ہاں جو شخص عمداً سُستی کرتا ہے اور جماعت میں شامل ہونے میں دیر کرتا