ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 83

ہاں یہ امر جدا ہے کہ وہ اسباب ہم کو دکھائی دیں یا نہ لیکن اس میں کوئی کلام نہیں کہ اسباب ضرور ہوتے ہیں۔اسی طرح آسمان سے انوار اترتے ہیں جو زمین پر پہنچ کر اسباب کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو تاریکی اور گمراہی میں مبتلا پایا اور ہر طرف سے ضلالت اور ظلمت کی گھنگھور گھٹا دنیا پر چھا گئی۔اس وقت اس تاریکی کو دور کرنے اور ضلالت کو ہدایت اور سعادت سے تبدیل کرنے کے لئے ایک سراج المنیر فاران کی چوٹیوں پر چمکا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔موجودہ زمانہ کی حالت اور ضرورت مصلح اور ایسا ہی اس زمانہ میں کہ جس میں ہم رہتے ہیں ایمانی طاقتیں مُردہ ہو کر فسق و فجور نے ان کی جگہ لے لی ہے۔لوگوں کے معاملات ایک طرف عبادات دوسری طرف، غرض ہر بات میں فتور ہو گیا ہے۔صرف یہ آفت ہی اگر ہوتی تو کچھ مضائقہ اور چنداں خطر نہ تھا لیکن ان ساری باتوں کے علاوہ سب سے بڑی آفت جس کا مجھے کئی بار ذکر کرنا پڑا ہے اور جس کو ہر بہی خواہ اسلام کا دل محسوس کر چکا ہے یا کر سکتا ہے وہ زہریلا اثر ہے جو آج کل کی طبعی طبابت اور ہیئت اور جھوٹے فلسفہ کے باعث اسلام اور اہل اسلام پر آرہی ہے۔علماء تو اس طرف توجہ نہیں کرتے۔ان کو خانہ جنگیوں اور اندرونی جھگڑوں اور ایک دوسرے کی تکفیر بازی سے فرصت ملے تو ادھر توجہ کریں۔زاہد اپنی گوشہ نشینی میں بیٹھ کر اگر دعاؤں سے کام لیتے تو بھی کچھ آثار پیدا ہوتے مگر وہ پیر پرستی اور جواز سماع وغیرہ کی بحثوں میں پڑے ہوئے ہیں۔حقیقی صوفی ازم کی جگہ اب چند رسومات نے لے لی جن کا قرآن اور سنت سے پتا نہیں چلتا۔الغرض ہر طرف سے اسلام عرضۂ تیغِ جہلا و سفہا ہو رہا ہے۔اس وقت میں کہ وہ ضرورتیں جو کسی مصلح اور ریفارمر کی آمد کے لئے لازم ہیں پورے انتہائی نقطہ تک پہنچ چکی ہیں۔ہر ایک شخص بجائے خود ایک نیا مذہب رکھتا ہے۔ان تمام امور اور حالات پر قیاس کرکے اسلام کی عمر خاتمہ کے قریب نظر آتی تھی۔ڈاکٹر اور طبیب جب کسی ہیضہ کے مریض کا بدن برف سا سرد یا اسے سرسام میں مبتلا دیکھتے ہیں تو اسے لاعلاج بتلا کر کھسک آتے ہیں اور حالات ردّیہ