ملفوظات (جلد 1) — Page 82
کی طرح اساطیرالاولین کہہ کر ٹالا جاتا ہے۔وہ زمانہ تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا اور قرآن کے نزول کا جب وہ دنیا سے گمشدہ طاقتوں کو یاد دلانے کے لئے آیا تھا۔اب وہ زمانہ آگیا جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی تھی کہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے حلق سے قرآن نہ اترے گا۔سو اب تم ان آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کہ لوگ قرآن کیسی خوش الحانی اور عمدہ قراءت سے پڑھتے ہیں لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں گزرتا۔اس لئے جیسے قرآن کریم جس کا دوسرا نام ذکر ہے اس ابتدائی زمانہ میں انسان کے اندر چھپی ہوئی اور فراموش ہوئی ہوئی صداقتوں اور ودیعتوں کو یاد دلانے کے لئے آیا تھا۔اس زمانہ میں بھی آسمان سے ایک معلم آیا اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ واثقہ کی رو سے کہ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر:۱۰) اس زمانہ میں بھی آسمان سے ایک معلّم آیا جو اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ (الجمعۃ:۴) کا مصداق اور موعود ہے۔وہ وہی ہے جو تمہارے درمیان بول رہا ہے۔میں پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کی طرف عود کر کے کہتا ہوں کہ آپ نے اس زمانہ ہی کی بابت خبر دی تھی کہ لوگ قرآن کو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نہ اُترے گا۔اب ہمارے مخالف، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ کے وعدوں کی قدر نہ کرنے والے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں پر دھیان نہ دینے والے خوب گلے مروڑ مروڑ کر يٰعِيْسٰۤى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ (اٰل عمران:۵۶) اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ (المآئدۃ:۱۱۸) قرآن میں عجیب لہجہ سے پڑھتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں اور افسوس تو یہ ہے کہ اگر کوئی ناصح مشفق بن کر سمجھانا چاہے تو سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔نہ کریں۔اتنا تو کریں کہ اس کی بات ہی ذرا سن لیں۔مگر کیوں سنیں؟ وہ گوش شنوا بھی رکھیں۔صبر اور حسن ظن سے بھی کام لیں۔اگر خدائے تعالیٰ فضل کے ساتھ زمین کی طرف توجہ نہ کرتا تو اسلام بھی اس زمانہ میں مثل دوسرے مذہبوں کے مردہ اور ایک قصہ کہانی سمجھا جاتا۔کوئی مردہ مذہب کسی دوسرے کو زندگی نہیں دے سکتا لیکن اسلام اس وقت زندگی دینے کو تیار ہے لیکن چونکہ یہ سنت اللہ ہے کہ کوئی کام خدائے تعالیٰ بغیر اسباب کے نہیں کرتا۔