ملفوظات (جلد 1) — Page 84
دیکھ کر ڈاکٹر حاذق بھی یاس اور نومیدی ظاہر کردیتا ہے۔اب اس وقت اسلام کی حالت کچھ شک نہیں کہ اس انتہا کی یاس تک پہنچ گئی تھی لیکن اگر وہ بھی انسان کے اپنے خیالات کا نتیجہ یا اپنی کوششوں کا ثمرہ ہوتا تو ان مصائب اور شدائد کے دوران میں کہ ہر طرف سے اس پر زد پڑتی ہے اور اس کی اپنی اندرونی حالت بوجہ نفاق باہمی کمزور ہوتی گئی ہے۔ایسی حالت میں کم ازکم اسلام کا قائم رہنا جس کے معدوم کرنے کے لئے مخالفوں نے ناخنوں تک زور لگایا اور لگا رہے ہیں بہت مشکل ہوجاتا۔کوئی سال نہیں جاتا جبکہ کوئی نئی صورت اسلام پر حملہ کرنے کی نہیں تراشی جاتی۔اگر کوئی ایجاد یا کَل بنائی جاتی ہے اس کے لئے اصول کو زیر نظر رکھ کر اسلام پر حملہ کر دیا جاتا ہے۔آج کل کی ترقی بھی اسلام کا ایک معجزہ ہے الغرض ایسے فتنے کے وقت میں قریب تھا کہ دشمن اکٹھے ہو کر ایک دفعہ ہی مسلمانوں کو برگشتہ کر دیتے لیکن اللہ تعالیٰ کے زبردست ہاتھ نے اسلام کو سنبھالے رکھا یہ بھی ایک دلیل ہے اسلام کی صداقت کی۔آجکل کی ترقی بھی اسلام کا ایک معجزہ ہے۔پس دیکھو کہ مخالفوں نے اپنی ساری طاقتیں اور قوتیں حتی کہ جان اور مال تک بھی اسلام کے نابود کرنے میں صرف کر دیا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر:۱۰) یعنی خدا آپ ہی ان نقوش فطرت کو یاد دلانے والا ہے اور خطرہ کے وقت اس کو بچا لے گا۔اسلام کی کشتی خطرہ میں جا پڑی تھی۔پادریوں کا حملہ جنہوں نے کروڑہا روپیہ خرچ کر کے اور طرح طرح کے منافع اور وعدے یہاں تک کہ شرمناک نفسانی حظوظ تک بھی دکھا کر لوگوں کو اسلام سے بدظن کرنے کی کوشش کی اور دوسری طرف اسلامی عقائد کو بدنام کرتے ہیں۔دیکھو! اِمساکِ بارش کی وجہ سے اِستسقاء کی نماز پڑھی جاتی ہے۔اگر کَل سے بارش برسانے میں کامیابی ہو جاوے جیسا کہ آجکل بعض لوگ امریکہ وغیرہ میں کوششیں کرتے ہیں تو اس طرح پر ایک رکن ٹوٹ جائے گا۔غرض میں کہاں تک بیان کروں۔ہر طرف سے اسلام پر حملے ہو رہے ہیں اور اس کو بدنام کرنے کی کوشش، ہاں انتھک کوشش کی جاتی ہے مگر ان لوگوں کے منصوبے اور ہتھکنڈے کیا کر سکتے ہیں۔خدا اس کو خود