ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 81

ہوجاتے۔مثلاً دیکھو! اگر اندر کھڑکا ہو تو باہر والا خواہ مخواہ خیال کرے گا کہ اندر کوئی آدمی ضرور ہے مگر وہ جب دو چار دن تک دیکھتا ہے کہ اندر سے کوئی نہیں نکلا تو پھر اس کا خیال مبدّل ہونا شروع ہوتا ہے تو پھر بدوں اندر جانے کے ہی وہ سمجھ لیتا ہے کہ اگر انسان ہوتا تو اس کو کھانے پینے کی ضرورت پڑتی اور وہ ضرور باہر آتا۔اگر نبوت کے انوار و برکات جو وحی ولایت کے رنگ میں آتے ہیں۔اس فلاسفی اور روشنی کے زمانہ میں ظاہر نہ ہوتے تو مسلمانوں کے بچے مسلمانوں کے گھر میں رہ کر اسلام اور قرآن کو ایک قصہ کہانی اور داستان سمجھ لیتے اور اسلام سے ان کو کوئی واسطہ اور تعلق نہ رہتا۔اس طرح پر گویا اسلام کو معدوم کرنے کا سلسلہ بندھ جاتا مگر نہیں! اللہ تعالیٰ کی غیرت، اس کا ایفائے وعدہ کا جوش کب ایسا ہونے دیتا تھا۔جیسا کہ ابھی میں نے کہا کہ خدا ئے تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ۔قرآن کا نام ذکر رکھنے کی وجہ اب دیکھو! قرآن کریم کا نام ذکر رکھا گیا ہے اس لئے کہ وہ انسان کی اندرونی شریعت یاد دلاتا ہے۔جب اسم فاعل کو مصدر کی صورت میں لاتے ہیں تو وہ مبالغہ کا کام دیتا ہے جیسا زَیْدٌ عَدْلٌ کیا معنے؟ زید بہت عادل ہے۔قرآن کوئی نئی تعلیم نہیں لایا بلکہ اس اندرونی شریعت کو یاد دلاتا ہے جو انسان کے اندر مختلف طاقتوں کی صورت میں رکھی ہے۔حلم ہے، ایثار ہے، شجاعت ہے، جبر ہے، غضب ہے، قناعت ہے وغیرہ۔غرض جو فطرت باطن میں رکھی تھی قرآن نے اسے یاد دلایا جیسے فِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ (الواقعۃ:۷۹) یعنی صحیفہء فطرت میں کہ جو چھپی ہوئی کتاب تھی اور جس کو ہر ایک شخص نہ دیکھ سکتا تھا۔اسی طرح اس کتاب کا نام ذکر بیان کیا تاکہ وہ پڑھی جاوے تو وہ اندرونی اور روحانی قوتوں اور اس نور قلب کو جو آسمانی ودیعت انسان کے اندر ہے یاد دلاوے۔غرض اللہ تعالیٰ نے قرآن کو بھیج کر بجائے خود ایک روحانی معجزہ دکھایا تا کہ انسان ان معارف اور حقائق اور روحانی خوارق کو معلوم کرے جن کا اسے پتہ نہ تھا مگر افسوس کہ قرآن کی اس علّت غائی کو چھوڑ کر جو هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ (البقرۃ:۳) ہے۔اس کو صرف چند قصص کا مجموعہ سمجھا جاتا ہے اور نہایت بے پروائی اور خود غرضی سے مشرکین عرب