ملفوظات (جلد 1) — Page 80
انکار کر دیتے ہیں۔سوچنے اور سمجھنے کا مقام ہے کہ معمولی طور پر تو مانتے نہیں اور غیر معمولی طور پر اعتراض کرتے ہیں۔اب یہ عمداً اور صریحاً انبیاء علیہم السلام کے وجود کا انکار نہیں تو کیا ہے۔کیا انہی عقلوں اور دانشوں پر ناز ہے کہ فلاسفر کہلا کر دہریہ یا بت پرست ہو گئے۔اللہ تعالیٰ کی مخفی طاقتیں کبھی الہام اور وحی کے سوا اپنا کرشمہ نہیں دکھا سکتیں۔وہ وحی اور الہام ہی کے رنگ میں نظر آتی ہیں۔عقل مند وہ ہے جو نبی کو شناخت کرتا ہے یہ خدائے تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمانیت کا تقاضا ہے کہ اس نے دنیا میں اپنے نبی بھیجے۔عقل مند وہ ہے جو نبی کو شناخت کرتا ہے کیونکہ وہ خدا کو شناخت کرتا ہے اور بیوقوف وہ ہے جو نبی کا انکار کرتا ہے کیونکہ نبوت کا انکار الوہیت کے انکار کو مستلزم ہے۔اور جو ولی کو شناخت کرتا ہے وہ نبی کو شناخت کرتا ہے۔دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ نبی الوہیت کے لئے بطور ایک میخ آہنی کے ہے اور ولی نبی کے لئے۔اب ذرا ٹھنڈے دل سے سوچو کہ اللہ تعالیٰ نے تیرہ سو سال پہلے اس سلسلہ کو دنیا میں ظاہر کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ظاہر کیا لیکن آج تیرہ سو سال بعد اور اس وقت کے چودھویں صدی کے بھی پندرہ سال گزر گئے۔اس کو آریوں، برہموؤں، طبیعیوں اور دہریوں یا عیسائیوں کے سامنے بیان کرو تو وہ ہنس دیتے ہیں اور تمسخر میں اڑا دیتے ہیں۔ایسی مصیبت کے وقت میں کہ ایک طرف علوم جدیدہ کی روشنی دوسری طرف طبیعتوں میں ایک خاص انقلاب پیدا ہو جانے کے بعد مختلف فرقوں اور مذہبوں کی کثرت ہے ان امور کا پیش کرنا اور لوگوں سے منوانا بہت ہی پیچیدہ بات ہو گئی تھی اور اسلام اور اس کی باتیں ایک قصہ کہانی سمجھی جانے لگی تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے جو اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر:۱۰) کا وعدہ دے کر قرآن اور اسلام کی حفاظت کا خود ذمہ دار ہوتا ہے مسلمانوں کو اس مصیبت سے بچا لیا اور فتنہ میں پڑنے نہ دیا۔پس مبارک ہیں وہ لوگ جو اس سلسلہ کی قدر کرتے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔بات یہ ہے کہ اگر ثبوت نہ ملے تو یہ بالکل ٹھیک ہے کہ جیسا انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ وہ بدظنی کی طرف جھٹ رجوع کر لیتی ہیں تو اندرونی طور پر ہی لوگ ایک قصہ کہانی سمجھ کر قرآن اور اسلام سے دست بردار