ملفوظات (جلد 1) — Page 79
دو ہزار روپیہ کی ہو۔اگر وہ بارہ کی بجائے دس اور دس کی بجائے بارہ بجائے تو نکمی اور ناقص سمجھی جائے گی۔لیکن خدائے تعالیٰ کی قائم کردہ گھڑی ایسی ہے کہ اس میں ذرّہ برابر فرق نہیں اور نہ اس کو کسی چابی کی ضرورت نہ صاف کرنے کی حاجت۔کیا ایسے صانع کی طاقتوں کا شمار کر سکتے ہیں۔انسان حیران ہو جاتا ہے جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ ہماری اشیاء کپڑے، برتن وغیرہ جو استعمال میں آتے ہیں گھستے رہتے ہیں۔بچے جوان اور بوڑھے ہو کر مرتے ہیں لیکن جو سورج کل طلوع ہوا تھا آج بھی وہی سورج ہے اور ایک لا تعداد زمانہ سے اسی طرح چلا آیا ہے اور چلا جائے گا مگر اس پر کوئی حالت تحلیل وغیرہ کی یا اثر زمانہ کی نہیں ہوتی۔کس قدر گستاخی ہے کہ ایک کیڑے ہو کر اس رافع ذات الٰہی پر حملہ کریں اور جلدی سے حکم کر دیں کہ خدا میں نہیں پایا جاتا۔انبیاء علیہم السلام کے معجزات کا مقصد اسلام کا خدا بڑا طاقتور خدا ہے۔کسی کو حق نہیں پہنچتا ہے اس کی طاقتوں پر اعتراض کرے۔انبیاء علیہم السلام کو جو معجزات دئیے جاتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ انسانی تجارب شناخت نہیں کر سکتے اور جب انسان ان خارق عادت امور کو دیکھتا ہے تو ایک بار تو یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہے۔لیکن اگر اپنی عقل کا ادعا کرے اور تفہیم الٰہی کے کوچے میں قدم نہ رکھے تو دونوں طرف سے راہ بند ہو جاتی ہے۔ایک طرف معجزات کا انکار، دوسری طرف عقل خام کا ادعا۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان دقیق در دقیق کنہ کے دریافت کرنے کی فکر میں وہ نادان انسان لگ جاتا ہے جو معجزات کی تہ میں ہے اور جس کی فلاسفی زمینی عقل اور سطحی خیالات پر نہیں کھل سکتی۔اس سے وہ انکار کی طرف رجوع کرتے کرتے نبوت کے نفس کا ہی منکر ہو جاتا ہے اور شکوک اور وساوس کا ایک بہت سا ذخیرہ جمع کر لیتا ہے جو اس کی شقاوت کا موجب ہو کر رہتا ہے۔کبھی یہ کہہ دیتا ہے کہ یہ بھی ہمارے جیسا ایک آدمی ہے جو کھاتا پیتا اور حوائج انسانی رکھتا ہے۔اس کی طاقتیں ہم سے کیونکر بڑھ سکتی ہیں؟ اس کی طاقتوں میں روحانیت کی قوت اور دعاؤں میں استجابت کا اثر کیونکر خاص طور پر آجائے گا؟ افسوس ! اس قسم کی باتیں بناتے اور اعتراض کرتے ہیں جس سے جیسا میں نے ابھی کہا نفس نبوت کا