ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 78

تو یہ تو کہہ دیں گے کہ کان کے پردہ پر یوں ہوتا ہے اور وُوں ہوتا ہے لیکن ماہیت آواز خاک بھی نہ بتلا سکیں گے۔آگ کی گرمی اور پانی کی ٹھنڈک پر کیوں کا جواب نہ دے سکیں گے۔کنہ اشیاء تک پہنچنا کسی حکیم یا فلاسفر کا کام نہیں ہے۔دیکھیے ہماری شکل آئینہ میں منعکس ہوتی ہے لیکن ہمارا سر ٹوٹ کر شیشہ کے اندر نہیں چلا جاتا۔ہم بھی سلامت ہیں اور ہمارا چہرہ بھی آئینہ کے اندر نظر آتا ہے۔پس یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ چاند شق ہو اور شق ہو کر بھی انتظام دنیا میں خلل نہ آوے۔اصل بات یہ ہے کہ یہ اشیاء کے خواص ہیں۔کون دم مار سکتا ہے۔اس لئے خدائے تعالیٰ کے خوارق اور معجزات کا انکار کرنا اور انکار کے لئے جلدی کرنا شتاب کاروں اور نادانوں کا کام ہے۔خدا کی قدرتوں اور عجائبات کو محدود سمجھنا دانشمندی نہیں خدا کی قدرتوں اور عجائبات کو محدود سمجھنا دانش مندی نہیں۔وہ اپنی ماہیت نہیں جانتا اور سمجھتا اور آسمانی باتوں پر رائے زنی کرتا ہے۔ایسے ہی لوگوں کے لئے کہا تو کار زمیں را نکو ساختی کہ با آسماں نیز پرداختی # انسان کو لازم ہے کہ اپنی بساط سے بڑھ کر قدم نہ مارے۔اکثر امراض اور عوارض کے اسباب اور علامات ڈاکٹروں کو معلوم نہیں تو کیا ایسی کمزوری پر اسے مناسب ہے کہ وہ بساط سے بڑھ کر چلے؟ ہرگز نہیں۔بلکہ طریق عبودیت یہی ہے کہ سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا (البقرۃ:۳۳) کہنے والوں کے ساتھ ہو۔دیکھو ستارے جو اتنے بڑے بڑے گولے ہیں آسمان میں بغیر ستون کے لٹکتے ہیں اور خود آسمان بغیر کسی سہارے کے ہزارہا سال سے اسی طرح چلے آئے ہیں۔چاند ہر روز دُھلا دُھلایا نکلتا ہے۔آفتاب ہر روز طلوع ہوتا ہے اور ٹھیک رفتار اور روش پر چلتا ہے۔ہمارے کاموں میں کوئی نہ کوئی غلطی ضرور ہو جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے کام دیکھو کہ یہی چاند سورج اپنے ایک ہی طریق پر چلتے ہیں۔اگر ہر روز ان باتوں کو سوچو کہ سورج ہر روز مقررہ طریق پر نکلتا ہے۔جہات کو بتلاتا ہے تو دیوانہ ہو جائے۔دیکھو ہم پر اتنی حالتیں آتی ہیں اور سورج پر کوئی حالت نہیں آتی۔ایک گھڑی جو